کتابیں

یہ ریڈیو لاہور ہے…… میم سین بٹ

لاہورسے صرف مشرقی پنجاب ہی نہیں یوپی، سی پی کے بعض مہاجر دانشوروں کو بھی بہت زیادہ لگاؤ رہا ہے اور انہوں نے تقسیم ہند کے بعد کراچی کے بجائے لاہور میں مقیم رہنا پسند کیا تھا۔ ان اردو داں مہاجر ادیبوں، شاعروں اور نقاد دانشوروں میں سے ڈاکٹر عبادت بریلوی اور پروفیسر وقار عظیم کے بارے میں تو کہا جا سکتا ہے کہ دونوں پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج میں سرکاری ملازمت کے باعث کراچی نہیں گئے تھے لیکن انتظار حسین، سید قاسم محمود اورابوالحسن نغمی تو آزادی کے بعد لاہور سے کراچی جا کر لوٹ آئے تھے، انتظارحسین نے لاہور میں گزرے ہوئے دنوں کی یادوں پر مشتمل کتاب ”چراغوں کا دھواں“ لکھی تھی۔ سید قاسم محمود نے لاہور میں بیتے شب و روز کے حوالے سے حلقہ ارباب ذوق کے خصوصی اجلاس میں طویل مضمون پڑھا تھا جو غالباَ معاصر اخبار کے سنڈے میگزین میں قسط وار شائع ہوا تھا جبکہ ابو الحسن نغمی (مرحوم)نے ”یہ لاہور ہے“ کے عنوان سے آٹھ ابواب پر مشتمل کتاب لکھی تھی جسے 2003ء میں لاہور سے سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کیا تھا۔
اس کتاب کا نام ”یہ بھی لاہور ہے“ بلکہ ”یہ ریڈیو لاہور ہے“ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ ان کی صرف لاہور ریڈیو سٹیشن کے بار ے میں یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ریڈیوسٹیشن لاہورکی پرانی عمارت سے آغاز اور موجودہ نئی عمارت پر اختتام ہوتا ہے۔ ویسے بھی ”یہ لاہور ہے“کے عنوان سے عبداللہ ملک مرحوم کے مطبوعہ کالموں کا مجموعہ موجود ہے جو اگرچہ ابوالحسن نغمی کی کتاب کے بعد شائع ہوا تھا لیکن”یہ لاہور ہے“ کے عنوان سے عبداللہ ملک کے کالم 1951ء میں روزنامہ امروز لاہور یڈیشن میں شائع ہوتے رہے تھے۔ دراصل عبداللہ ملک نے اپنے کالم اورابوالحسن نغمی نے اپنی کتاب کا عنوان اس مختصر جملے پر رکھا تھا جو صبح سویرے لاہور ریڈیو سٹیشن کی نشریات کے آغاز پراناؤنسر بولتا تھا، آزادی کے پہلے دن 14 اگست 1947ء کو نشریات کے آغاز پر مصطفٰے علی ہمدانی نے سب سے پہلے ”یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے“کا جملہ ادا کیا تھا۔ ا ن کے بعد اخلاق احمد دہلوی اور دیگر اناؤنسرز اس جملے کے ذریعے لاہور ریڈیو سٹیشن کی نشریات کا آغاز کرتے رہے تھے۔
ابوالحسن نغمی لکھنؤ کے علاقے سیتا پورکے رہنے والے تھے اور ایف اے کا امتحان دینے کے چند ہفتے بعد لاہور ریڈیو سٹیشن پر سکرپٹ رائٹر کی ملازمت حاصل کرنے کیلئے جون 1950ء کی ایک گرم ترین سہ پہرکو واہگہ بارڈر پارکر کے پاکستان پہنچ گئے تھے۔ ان کے استاد مرزا جعفرعلی خان اثر لکھنوی نے انہیں شوکت تھانوی کے نام سفارشی رقعہ دیا تھا جو لاہور کے پرانے ریڈیو سٹیشن پر سکرپٹ رائٹر تھے، لاہور ریڈیو سٹیشن پہلے شملہ پہاڑی کے پیچھے گورنرہاؤس کے عقبی گیٹ کے ساتھ فیض احمد فیض کی رہائش گاہ سے ملحقہ سر فضل حسین مرحوم کی کوٹھی میں ہوتا تھا، شوکت تھانوی نے لاہور ریڈیو سٹیشن پر سیٹ خالی نہ ہونے کا کہتے ہوئے انہیں عشرت رحمانی کے نام رقعہ دے کر کراچی بھجوا دیا وہاں بھی انہیں ریڈیو پرملازمت نہ مل سکی تھی، البتہ وہ معاوضے پر فیچر لکھتے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں! لاہور کے لامتناہی قصے…… میم سین بٹ
کچھ عرصہ بعد ابوالحسن نغمی دوبارہ لاہور آ کرشوکت تھانوی سے ملے مگر جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں، شوکت تھانوی تو صرف ایک بے اختیار اور بے بس کنٹریکٹ سٹاف آرٹسٹ تھے جنہیں خود اپنی ملازمت کو برقرار رکھنے اور تنخواہ میں سالانہ ترقی کیلئے نہ جانے کیا کیا جتن کرنا پڑتے تھے اور پھر شاید وہ ریڈیو پر اپنے ہی جیسے کام کیلئے کسی دوسرے شخص کو متعارف نہیں کرا سکتے تھے، شوکت تھانوی سے مایوس ہو نے کے بعد ابوالحسن نغمی نے واضح طور پرفیصلہ کرلیا کہ وہ ہمیشہ لاہور میں ہی رہیں گے اور شوکت تھانوی کی مدد کے بغیر اپنا مقدر خود آزمائیں گے چنانچہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلہ لے کر روزنامہ زمیندارکے ساتھ منسلک ہوگئے۔ ان دنوں مولانا ظفر علی خاں بڑھاپے کے باعث ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے اور ان کے صاحبزادے منصور علی خاں روزنامہ زمیندار کے ایڈیٹر ہوتے تھے۔
مولانا ظفرعلی خاں کے بھائی پروفیسر حمید احمد خاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں استاد بلکہ پرنسپل تھے غالباََ ان کی سفارش پر ہی ابوالحسن نغمی کو روزنامہ زمیندار میں ملازمت ملی تھی وہ اسلامیہ کالج سے بی اے کا امتحان تو پاس نہ کر سکے تھے البتہ روزنامہ زمیندار میں روزانہ قطعہ اور کالم لکھنے کے علاوہ پبلشرز کیلئے کتابوں کا ترجمہ بھی کرتے رہے تھے جس سے ان کی گزر بسر ہوتی رہی، پانچ سال بعد غالباَ اخبار بند ہو جانے کی وجہ سے انہیں بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑا تو وہ پروفیسر عبدل بشیرآذری کے کہنے پر دسمبر 1955ء میں پروفیسر حمید احمد خاں کا سفارشی رقعہ لے کر ان کے شاگرد ریجنل ڈائریکٹر محمود نظامی کے پاس ریڈیوسٹیشن جا پہنچے تھے جنہوں نے ان سے معاوضے پر سکرپٹ لکھوانا شروع کر دیئے تھے اور پھر سوا سال بعد مارچ 1957ء میں انہیں کسی کی سفارش پرکنٹریکٹ سٹاف آرٹسٹ کے طور پر لاہور ریڈیو سٹیشن میں بھرتی کر لیا گیا۔
انہوں نے اپنی کتاب”یہ لاہور ہے“کا انتساب اپنے ایک صاحبزادے نورالحسن نغمی کے نام کیا ہے جن کے مسلسل اصرار پرانہوں نے یہ کتاب لکھی تھی جبکہ دیباچہ انور مقصود نے ”پڑھتا چلا گیا“ کے عنوان سے تحریرکیا جو 1950ء میں کراچی ریڈیوسٹیشن سے ان کا فیچر پروگرام ”دیکھتا چلا گیا“ بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ ”عرض مصنف“ میں ابوالحسن نغمی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک تو یہ لاہورریڈیو سٹیشن کی سرگزشت ہے جو خاصے طویل عرصے کو احاطہ کرتی ہے دوسرے یہ ان کی اپنی سرگزشت کا وہ اہم ترین حصہ ہے جو لاہور ریڈیو سٹیشن سے تعلق رکھتا ہے،کتاب پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ لاہور ریڈیو سٹیشن پر ابوالحسن نغمی کا زیادہ ملنا جلنا اردو داں ساتھیوں کے ساتھ رہا تھا جن میں شوکت تھانوی، اخلاق احمد دہلوی، عشرت رحمانی، مجید فاروقی، مسعود چشتی اور اظہارکاظمی وغیرہ شامل تھے۔ ریڈیو کے پنجابی سٹاف میں وہ محمود نظامی، ایوب رومانی، شمس الدین بٹ، صوفی تبسم، اشفاق احمد، میرزا ادیب، میاں لطیف الرحمان، عبدل بشیر آذری اورمحمداسلام شاہ وغیرہ کے اپنے ساتھ حسن سلوک کی تعریف کرتے ہیں۔
دوسرے باب میں لاہور ریڈیو سٹیشن سے منسلک 20 معروف علمی و ادبی شخصیات پر خاکہ نما مضامین لکھے گئے ہیں لیکن ان میں اے حمید جیسی ریڈیوکی مشہور و معروف شخصیت شامل نہیں۔ کتاب کے آغاز اوردرمیان میں چند مقامات پر ان کا سرسری سا ذکرکیا گیا ہے اور ایک جگہ تو انہوں نے اے حمید کو روٹھا ہوا ساتھی لکھا ہے حالانکہ ناراضگی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ابوالحسن نغمی لاہور ریڈیو سٹیشن کی تاریخ لکھتے ہوئے اے حمید کا اہم اور جاندارکردار بُری طرح نظرانداز کر دیتے جو ان سے چند سال پہلے لاہور ریڈیو سٹیشن کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے اور ان کے ملازمت چھوڑنے کے چند سال بعد تک منسلک رہے تھے۔ ابوالحسن نغمی کی ریڈیو پر ملازمت پندرہ سولہ برس جبکہ اے حمید کی تیس سال تھی بلکہ ابوالحسن نغمی بھٹو دور میں لاہور ریڈیو سٹیشن پر کنٹریکٹ سٹاف کی جس یونین کے جنرل سیکرٹری رہے تھے، اس کے صدر اے حمید ہی ہوتے، اس قدر قریبی ریڈیو ملازم ساتھی کے بارے میں چند جملے بھی نہ لکھنا ان کے متعصب ہونے کا ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اے حمید 1980ء کی دہائی کے آخر میں ابوالحسن نغمی کی طرح وائس آف امریکہ کے ساتھ بھی منسلک رہے تھے مگر مقررہ مدت سے پہلے ہی واشنگٹن چھوڑکر وطن واپس آ گئے تھے کیونکہ لاہور سے مزید جدائی ان کیلئے ناقابل برداشت ہو گئی تھی، اے حمید کے برعکس ابوالحسن نغمی چار عشروں سے امریکہ میں ہی مقیم رہے ہیں حالانکہ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں لاہور سے بہت محبت ہے وہ خودکتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ لاہورکہنے کو تو ایک شہرکا نام ہے لیکن مجھ سے پوچھئے تو کم سے کم میرے لئے لاہور تاثرات و واقعات اور حکایات و روایات کی اس دائمی کیفیت کا نام ہے جو میرے خون میں حل ہوکر میرے نظام بدن میں گردش کر رہی ہے۔ لاہور میرے دل کی دھڑکن کا نام ہے اور جب میں کہتا ہوں ”یہ لاہور ہے“ تو ایک مفہوم میں دراصل میں اپنی ہی جانب اشارہ کرتا ہوں کیونکہ دراصل میں خود لاہور ہوں، لاہور میرا وطن ہے اور اس وطن کا دل زمین کا وہ ٹکڑا ہے جو شملہ پہاڑی کے نزدیک ریڈیو سٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے انشاء اللہ زمین کا یہ ٹکڑا ہمیشہ شاد و آباد رہے گا!“
یہ بھی پڑھیں! لاہورکا المیہ…… میم سین بٹ
ابوالحسن نغمی لاہورریڈیو سٹیشن پرسٹاف آرٹسٹ (سکرپٹ رائٹر) کے علاوہ موہنی حمید (شمیم آپا) کے ساتھ بچوں کے پروگرام ”ہونہار“ میں میزبان بھی رہے تھے۔ ان سے پہلے مولانا ظفرعلی خاں کے بھتیجے راجہ فاروق علی خاں اس پروگرام میں بھائی جان کا کردار اد اکرتے رہے بلکہ ابوالحسن نغمی کے امریکہ چلے جانے کے بعد راجہ فاروق علی خاں کا صاحبزادہ ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں بھائی جان کا کردار اداکرتا رہا تھا۔ ابوالحسن نغمی ریڈیو ملازمت کے ساتھ امریکی دفتر اطلاعات، فرینکلن فاؤنڈیشن، مجلس ترقی ادب اور متعدد لاہوری پبلشرز کیلئے کتب ورسائل کا ترجمہ اور مسودوں پر نظرثانی کا کام بھی کرتے رہے بلکہ روزنامہ امروزکا ریڈیو، ٹی وی ایڈیشن مرتب کرنے کے علاوہ ابن ادریس کے قلمی نام سے روزانہ قطعہ بھی لکھتے رہے تھے۔ دراصل یہ اعلیٰ عہدوں پر تعینات شخصیات سے سفارشی رقعے حاصل کرنے کا گر جانتے تھے، فرینکلن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مولانا حامد علی خاں ان کے استاد پروفیسر حمید احمد خاں کے بھائی تھے۔
لاہورریڈیو سٹیشن پرکنٹریکٹ سٹاف آرٹسٹ کے طور پر بھی یہ کسی کی سفارش پر بھرتی ہوئے تھے اور بعد ازاں جب اسلامیہ کالج کے طالب علم کی حیثیت سے اورئینٹل کالج میں ایم اے اردوکی کلاسز پڑھنے کی اجازت نہ ملنے پر ریڈیو کی ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے تو ان دنوں کے اردو داں وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سید ہاشم رضا کے کہنے پردوبارہ ملازم رکھ لئے گئے تھے۔ انہیں ایم اے کی کلاسز پڑھنے کی اجازت بھی مل گئی تھی تاہم ایم اے کی ڈگری ان کے کسی کام نہ آ ئی تھی جب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ریڈیو کے اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ان کے مقابلے میں پروگرام آرگنائزر شاد امرتسری کو انتظامی تجربے کی بنیاد پر منتخب کر لیا گیا۔
لاہورریڈیو سٹیشن پر سولہ سالہ ملازمت کے دوران ابوالحسن نغمی نے بعض اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹرز بلکہ ریجنل ڈائریکٹر کے ساتھ جنگ جاری رکھی، ان کے دوست سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کیوں اپنی نوکری کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہو۔ افسروں کو سٹاف اور فنکاروں کے سامنے ذلیل کرنے سے ان کے دل میں گرہ پڑ جائے گی اور وہ موقع پا کر انتقام لیں گے لیکن ابو الحسن نغمی اس زمانے میں خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتے تھے اور ریڈیو کے پنجابی فنکاروں کے ساتھ عملے کے ارکان بالخصوص ان افسروں کا بھی اردو تلفظ ٹھیک کرواتے رہتے تھے جو ان کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے اور ان کے حق میں ہمیشہ کلمہ خیر ہی کہتے تھے۔
ابوالحسن نغمی کو اپنی غلطیوں کا احساس لاہور ریڈیو سٹیشن کی ملازمت چھوڑنے کے بعد امریکہ جا کر ہوا تھا کتاب کے تیسرے باب ”یادوں کے جگنو“ میں لکھتے ہیں کہ اب میں اپنی گزشتہ زندگی پر غورکرتا ہوں تو اپنے بعض جارحانہ رویوں پر متاسف اور نادم ہوں۔ کاش میری جوانی کے دن پھر لوٹ آتے اور میں برد باری، تحمل اور مروت کی زندگی گزار سکتا۔

Leave a Reply

Back to top button