الیکشنالیکشن کہانی

رابعہ منزل کا پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ن کا سفر


کئی دہائیوں تک پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز رہنے والی عمارت اب ن لیگ کا پبلک سیکریٹریٹ بن گئی
منصور مہدی
راولپنڈ ی کی سیاست میں گزشتہ کئی دہائیوں سے قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی الیکشن کی سیاست کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی سیاست کا مرکز رہنے والی لیاقت روڈ کی رابعہ منزل آغار یاض الاسلام مرحوم( 22جون2015کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے) کے 42 سال بعد پیپلز پارٹی چھوڑ دینے کے باعث پیپلز سیکرٹیریٹ سے مسلم لیگ (ن) کا پبلک سیکرٹیریٹ بن گئی، تاہم اس بلڈنگ نے راولپنڈی کی سیاست کے کئی ادوار دیکھے، اس بلڈنگ کو اپنی مرحومہ والدہ کے نام منسوب کرکے رابعہ منزل کا نام دینے والے آغاریاض الاسلام کی سیاست طویل ترین جدوجہد کے حوالے سے ایک سیاسی کارکن کے لیے رول ماڈل قرار دی جاسکتی ہے، آغار یاض الاسلام نے پیپلز پارٹی میں رہ کر نہ صرف طاقتور اسٹبلشمنٹ کا مقابلہ کیا بلکہ جمہوری پارٹی کے اندر قائم طاقتور ترین اسٹبلشمنٹ سے بھی لڑنا پڑا، اس طرح سیاست میں چومکھی جنگ لڑتے لڑتے جب پیپلز پارٹی میں سیاست کے 42 سال گزر گئے اور اپنے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو بھی نہ رہی تو پیپلز پارٹی کو اس لیے خیر آباد کہنا پڑا کہ وہ پیپلز پارٹی ہی نہ رہی تھی جسے بھٹو نے اینٹی اسٹبلشمنٹ اوراینٹی سامراج ہونے کے بنیاد پر قائم کیا تھا۔
رابعہ منزل کے قیام سے قبل آغار یاض الاسلام 1979 میں راولپنڈی کے میئر منتخب ہوئے اور پیپلز پارٹی چھوڑنے سے انکار پر میئر شپ سے محروم ہونا پڑا، بعدازاں 1987 میں نیامحلہ سے ایک مرتبہ پھر راولپنڈی کی بلدیہ اعلی کے کونسلر منتخب ہوئے، تو ان کے ہمراہ منتخب ہونے والے تمام عوام دوست کونسلرز نے آغا عبدالرشید جیلانی مرحوم کو میئر منتخب کرانے کے لیے ووٹ دے دیے، تاہم آغار یاض الاسلام نے ایوان میں اکیلے ان کی مخالفت میں ووٹ دے کر ایک رکنی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
1988 کے جماعتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حلقہ پی پی 2 سے ایم پی اے منتخب ہو کر رابعہ منزل میں باقاعدہ پیپلز سیکرٹیریٹ قائم کرنے کا اعلان کرکے راولپنڈی کی سیاست میں مسلم لیگی سیاست کے مرکز لال حویلی کو برائے راست چیلنج کردیا، تاہم بعدازاں آغار یاض الاسلام جہنوں نے 1988 میں پانچ لاکھ روپے کی مالیت سے چھ مرلے اراضی پر دو منزلہ بلڈنگ خرید ی تھی کا باقاعدہ افتتاح 12 اپریل 1990 کو اپنی قائد وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے ہاتھوں کرایا،قومی اسمبلی کے دو انتخابات 1993 اور 2002 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
آغاریاض الاسلام نے 1996 میں پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے بھٹو کی قبر پرجا کر پیپلز پارٹی سے مستعفی ہونے کابھی اعلان کیا اور رابعہ منزل کو تالے لگا دیے اور کچھ عرصہ بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی، جہاں وہ سات ماہ تک تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے اور پھر تحریک انصاف کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے دوبارہ 1998 میں پیپلز پارٹی میں اس وقت شمولیت کا اعلان کردیا جب سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر ، پیپلز پارٹی راولپنڈی کے سابق صدر مرحوم حاجی چوہدری مشتاق حسین ،بابو اداریس اور دیگر پارٹی راہنماﺅں اور کارکنوں کے ہمراہ رابعہ منزل آئے،
رابعہ منزل کے سیاسی مرکزکی راولپنڈی میں پوزیشن ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مخالفت میں رہی اور پیپلز پارٹی کے لیے رابعہ منزل کی موجودگی میںراولپنڈی میں کئی دہائیوں تک کوئی اورایسا مرکز نہ رہا جو شیخ رشید احمد کی لال حویلی کو برائے راست چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہو، تاہم اب ماضی کی رابعہ منزل جو پیپلز سیکرٹیریٹ تھا اب مسلم لیگ (ن) کا پبلک سیکرٹیریٹ بن چکا ہے جس کے فرنٹ پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف ، آغار یاض الاسلام ، مسلم لیگ (ن) راولپنڈی کے صدر سردارنسیم خان اور جنرل سیکرٹری حاجی پرویز خان کی تصاویر پر مبنی ایک بڑا بورڈ لگ چکا ہے، مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نشان شیر اس بورڈ کے اوپر نمایاں طور پر لگادیا گیا ہے۔
رابعہ منزل کے ریکار ڈ کے مطابق یہاں آنے والوں میں سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو، عمران خان ، وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ، شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی ، معراج محمد خا ن ، جرنلسٹ ٹریڈ یونین سیاست کے سرخیل منہاج محمد برنا ، نوابزادہ محسن علی خان ، ملک غلام مصطفی کھر ، چیرمین سینٹ سید نئیر حسین بخاری ، سید خورشید احمد شاہ ، بیرسٹر اعتزاز احسن ، احسان الحق پراچہ ، مخدوم شہا ب الدین ، جہانگیر بدر ، ناہید خان ، ڈاکٹر صفدر عباسی ، شیخ رشید احمد سمیت کئی دیگرسرکردہ راہنما شامل ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button