تازہ ترینسچی کہانیاں

سنسان سڑک اور عبا میں ملبوس پراسرار عورت

میں گویا خاتون کی توجہ کا مرکز و محور بن چکا تھا یہاں تک کہ جب میں نماز کے لئے مسجد جاتا تو وہ گاڑی میں بیٹھی میری راہ تکا کرتی شب و روز کسی انجان راستے میں گزرنے لگے.

میرے سڑک کے اس پار ہونے کی دیر تھی کہ وہ بھی جان بوجھ کر اس طرف آ گئی_ میں اِس حرکت پر حیران و پریشان ہو گیا. یہ میری نو عمری کا زمانہ تھا اور میں ایک شرمیلا لڑکا.

چند دنوں سے مجھے اِس عبائے میں ملبوس نا قابلِ فہم عورت کا سامنا تھا جو چالیس پینتالیس کے لگ بھگ تھی_ کیا کرتا کہ وہ راستہ بھی تو میری مجبوری تھا کیونکہ مجھ پر چھوٹی بہن کو اسکول چھوڑنے کی اہم ذمہ داری تھی.

اکثر وہ خاتون بھی اسی سڑک پر اپنی بیٹی کے ساتھ دکھائ دیتی تھی. اتفاق دیکھئے کہ محترمہ کی بیٹی میری بہن کی ہم جماعت تھیاِسی طرح کئی روز گزر گئے.

میں گویا خاتون کی توجہ کا مرکز و محور بن چکا تھا یہاں تک کہ جب میں نماز کے لئے مسجد جاتا تو وہ گاڑی میں بیٹھی میری راہ تکا کرتی شب و روز کسی انجان راستے میں گزرنے لگے.

خاتون کی پر اسرایت کئ دنوں تک برقرار رہی یہاں تک کہ ایک روز میں نے چھوٹی بہن اور امی کے درمیان ہونے والی گفتگو اتفاقا سن لی … بہن محوِ گفتگو تھی” وہ (پراسرار خاتون) بھائی کو دیکھتی ہیں کیونکہ ان کے بیٹے کی شکل بھائی سے کافی ملتی جلتی تھی. اسے ناحق قتل کر دیا گیا تھا.

چھوٹی بہن کے الفاظ میرے کانوں میں سائیں سائیں کرنے لگے بالآخر مجھے خاتون کا اضطراب سمجھ آ گیا ممتا کا دکھ مجھے بھی غمگین کر چکا تھا.

Leave a Reply

Back to top button