خبریں

عراق: حکومت مخالف مظاہروں میں شدت، ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 260 سے متجاوز

ویب ڈیسک: عراق میں یکم اکتوبر سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر ایک بار پھر کی گئی جس کے نتیجے میں 13 مظاہرین جاں بحق ہو گئے. اس طرح اب تک مجموعی ہلاکتیں 260 سے زیادہ ہو گئی ہیں۔
ایک بین الاقوامی خبرایجنسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں 8 افراد صبح کے وقت اور دیگر 5 افرد شام کے وقت ہلاک ہوئے، ان میں سے اکثر افراد کو دارالحکومت بغداد میں نشانہ بنایا گیا۔
میڈیکل اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی نماز جنازہ کے دوران بھی فائرنگ کی گئی جس سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ عراق میں یکم اکتوبر کو حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو بعد ازاں خون ریزی میں تبدیل ہوا تھا۔
عراق میں مظاہروں کے دوران اب تک مجموعی ہلاکتیں 260 سے تجاوز کرچکی ہیں۔
عراق میں پرتشدد احتجاج کا نیا اس سلسلہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے مظاہرین کو اپنی تحریک معطل کرنے کی درخواست کے ایک روز بعد شروع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین کا مقصد حاصل ہوچکا ہے اور اب سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا معیشت پر اثر پڑ رہا ہے اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے سرکاری اور نجی املاک کو مزید نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی زندگی کو متاثر کیے بغیر اپنے خیالات کے اظہار کے کئی اور طریقے بھی موجود ہیں۔
خیال رہے کہ عادل عبدالمہدی پیش کش کرچکے ہیں کہ اگر سیاست متبادل اور کئی اصلاحات پر متفق ہوجاتے ہیں تو مستعفی ہونے کو تیار ہیں لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں بلکہ تمام سیاست دانوں کو جانا پڑے گا۔

Leave a Reply

Back to top button