سپیشل رپورٹ

البغدادی نے جنون کے باعث تنظیم کو ’زنان خانہ‘ بنا رکھا تھا: بیوی

داعش کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے پانچ سال بعد ان کی اہلیہ اسماء محمد نے تنظیم کے مقتول رہنما کے بارے میں چونکا دینے والے راز افشا کر دیے۔

اسماء جو اس وقت عراق میں زیر حراست ہیں، نے العربیہ کے ساتھ اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ البغدادی کے پاس 10 سے زیادہ یزیدی خواتین تھیں جن کو اس نے قیدی بنا رکھا تھا۔ تاہم اسماء نے کہا کہ البغدادی ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا تھا۔

البغدادی کی بیوی نے یہ بھی بتایا کہ البغدادی نے ایک 13 سالہ عراقی لڑکی سے شادی کی تھی۔ اس کی عمر البغدادی کی بیٹیوں جیسی تھی۔ اسماء نے کہا کہ داعش کے سربراہ خواتین کے جنون میں مبتلا ہو چکے تھے۔ انہوں نے خلافت کے لیے بنائی ریاست کو زنان خانے میں تبدیل کر دیا تھا۔ اسماء نے کہا "البغدادی اور اس کی تنظیم اپنی خواہشات کی رو میں بہ کر انسانیت کی حدوں سے باہر چلی گئی” انہوں نے بتایا کہ کہ ان کے شوہر ذیابیطس کے مریض تھے اور خلافت کے اعلان کے بعد اپنی خواہشات میں مبتلا ہو گئے۔

اسماء نے یہ بھی بتایا کہ ابو بکر البغدادی کے نام سے معروف ابراہیم العواد اپنی ایسی ریاست کے حصول کا خواہش مند تھا جو یورپ میں روم تک پہنچ جائے۔ وہ اپنا کنٹرول بڑھانے کے بعد مغرور ہو گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کا شوہر مسلسل حرکت میں رہتا تھا اور اس نے اسے شاذ و نادر ہی دیکھا تھا۔

1999 میں ابراہیم سے شادی کرنے والی اسماء نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کے شوہر کو امریکی فورسز نے 2004 میں بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا تھا۔ جیل سے رہائی کے دو سال بعد اس کے خیالات بالکل بدل گئے۔ اسما نے واضح کیا کہ البغدادی کے ساتھ اس کی زندگی 2008 سے غیر مستحکم تھی۔

واضح رہے ابوبکر البغدادی نے 2014 میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے نام سے عراق اور شام کے بڑے علاقوں کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں خلافت کا اعلان کردیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے 2019 میں شروع کئے گئے ایک آپریشن کے موقع پر البغدادی ادلب گورنری میں اس وقت مارا گیا تھا جب اس نے اپنی دو بیویوں اور بیٹے کے ساتھ خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button