پاکستان

’بُلٹ نے بیلٹ کو اغوا کیا ہے، گولی نے پرچی کو اغوا کیا ہے‘: سینیٹر مشتاق احمد

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بُلٹ نے بیلٹ کو اغوا کیا ہے، گولی نے پرچی کو اغوا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک بلٹ بیلٹ کو اغوا کرے گا اور گولی پرچی کو اغوا کرے گی تو عوام کو حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔

سینیٹر مشتاق نے کہا کہ کیا ’چند سرکاری افسر بند کمروں میں بیٹھ کر 25 کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے؟‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ آزادی اس وجہ سے حاصل نہیں کی تھی کہ یہ چند سرکاری افسران کی غلام بن جائے۔‘

سینیٹر مشتاق احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن معافی مانگے، چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں اور ان پر آرٹیکل چھ (سنگین غداری) لگایا جائے۔‘

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’انتخابات پر جو 50 ارب خرچ ہوا وہ ذمہ داران لوگوں سے وصول کیے جائیں اور سپریم کورٹ کی سطح پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔‘

ان کے مطابق دھاندلی کرنے والے پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ ملک کی یکجہتی سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ سینیٹر مشتاق کے مطابق الیکشن اس لیے کیا جاتا ہے کہ بحرانوں سے نکلا جائے اور ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف لے جایا جائے۔

انھوں نے سوال کیا کہ ’یہ کیسا الیکشن ہے جس کے بعد جمہوریت کی تنزلی ہوئی، معاشی اور سیاسی غیریقینی پیدا ہوئی۔

تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے عمران خان پر قائم مقدمات اور سنائی گئی سزاؤں پر بات کی۔ انھوں سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کے لیے قرار داد بھی پیش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button