سیاسیات

کیا گورنر سندھ کے معاملے پر ایم کیو ایم کو اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سامنا ہے؟

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی بھی مبینہ آڈیو وائرل ہوگئی۔

مبینہ وائرل آڈیو میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہےکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مینڈیٹ 100فیصد جعلی ہے تو ہم نے کہا ہےکہ کچھ ایسی بھی پارٹیاں ہیں جن کا 200 فیصد جعلی مینڈیٹ ہے اور ہمارا اشارہ ان کی طرف ہی تھا، اب فیصلہ رابطہ کمیٹی نے کرنا ہے کہ ہم کس حد تک ان کے پریشر میں آتے ہیں، یہ دونوں پارٹیاں آپس میں ملی ہیں اب ان کے نمبرز پورے ہوگئے ہیں، ان کو صدر، چیئرمین سینیٹ اور دو گورنرز دیے ہیں، پیپلز پارٹی (ن) لیگ کو پریشر دے رہی ہے کہ سندھ کی گورنر شپ ایم کیو ایم کو نہ دی جائے، اب چاہے گورنر شپ ہو اس کا فیصلہ ایم کیو ایم نے کرنا ہے، ان کی ڈکٹیشن پر کام نہیں ہوگا۔کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل ہونے کے بدلے ایک وزارت دے رہے ہیں، وہ گورنر سندھ بھی اپنا لا رہے ہیں، کچھ ملے بھی نہیں اور حکومت میں گئے تو حشر اور برا ہونے والا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تو پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ تھے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں تھیں، ہم نے پی ڈی ایم کا ساتھ دیا جس سے ووٹرناراض ہوا، پہلے ہمیں7سیٹیں ملیں تھیں وہ ہمارا ووٹ بینک تھا، آج ہمیں ووٹ نہیں ملا۔

کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ وہ ایک شخص کو گورنر بنوانا چاہتے ہیں، اس شخص کا نام خالد مقبول کو پتا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہےکہ کامران ٹیسوری حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات پر رابطہ کمیٹی کو بریفنگ دے رہے تھے جہاں انہوں نے اس طرح کی باتیں کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کے معاملے پر پی پی، (ن) لیگ اور ایم کیو ایم میں تحفظات ہیں، کچھ لوگ چاہتے ہیں گورنر سندھ کراچی کی سیاسی شخصیت ہو لیکن ان کا تعلق ایم کیو ایم سے نہ ہو، اس حوالے سے دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کو آگاہ کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button