سیاسیات

عمر ایوب کی تقریر کے دوران سرکاری ٹی وی نے نشریات بند کر دی

 سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کی تقریر شروع ہوتے ہی سرکاری ٹی وی نے لائیو نشریات بند کر دی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے عمر ایوب کو خطاب کی دعوت دی تو سرکاری ٹی وی نے ان کی تقریر شروع ہوتے ہی نشریات بند کر دی۔ ان کی تقریر کے دوران ایوان میں گھڑی چور کے نعرے بھی لگائے گئے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر گزار ہوں وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کا موقع دیا، اللہ تعالیٰ کے بعد بانی پی ٹی آئی  کا شکر گزار ہوں، ان کے پاس چوری کیا ہوا مینڈیٹ ہے، ان کے چہروں سے ڈر، خوف اور شرمندگی نظر آئے گی، یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے چہرے ایسے ہیں جیسے کسی جنازے میں آئے ہوئے ہیں، انہیں معلوم ہے ان کے پاس جو مینڈیٹ ہے وہ چوری شدہ ہے، پی ٹی آئی نے فارم 47 کے خلاف پرامن مظاہرے کیے اور لاہور میں 80 کے قریب کارکنان کو گرفتار کیا گیا، میں حقائق کے ساتھ باتیں سامنے رکھوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواتین بچوں کو ہراساں کیا ہم کھڑے رہے، ہم پر گولیاں چلائیں گئیں مگر ہم کھڑے رہے، ہم کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، 9 مئی واقعات کی ایک آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے، جن لوگوں نے اپنی جوانی قربان کر دی اس کا ذمہ دار کون ہے؟

عمر ایوب نے کہا کہ میرے لیڈر بانی پی ٹی آئی بحیثیت سیاسی قیدی پابند سلاسل ہیں، صحافی ارشد شریف کی کیا غلطی تھی اس کے قتل کا حساب کون دے گا؟ ایک پھول جیسا شخص زمان پارک میں ڈیوٹی دیتا تھا اس کو ناحق قتل کیا گیا، بشریٰ بی بی کو یرغمال رکھا ہوا ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی پر دباؤ بڑھے، بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی کی کمزوری نہیں طاقت ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button