ٹیکنالوجی

چار اقسام کے دستیاب سولر پینلز میں سے سب سے اچھا کون سا

مارکیٹ میں چار اقسام کے سولر پینل دستیاب ہیں۔ ان کی کارکردگی میں قسم یا نوعیت کی بنیاد پر 15 سے 25 فیصد کا فرق پایا جاتا ہے۔ عالمگیر سطح پر درکار توانائی کا 4.4 فیصد سولر پینلز سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ماحول پر اچھا اثر مرتب ہو رہا ہے۔ پی وی سسٹمز مختلف اقسام میں دستیاب ہیں اور دنیا بھر میں اس لیے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں کہ انہیں خریدنا اور بروئے کار لانا آسان ہے۔

یہ چار اقسام مونوکرسٹلین، پولی کرسٹلین، مونو پرس اور تِھن فلم ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مختلف مقاصد اور مقامات کے لیے ہوتےہیں۔

مونوکرسٹلین سولر پینل عموماً 20 فیصد تک زیادہ کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ پولی کرسٹلین 15 سے 17 فیصد زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مونو پرس (Mono-PERC) سولر پینل مونوکرسٹلین پینلز سے 5 فیصد زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور تِھن فلم سولر پینلز کی کارکردگی 7 تا 10 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

مونوکرسٹلین مونو پرس سولر پینلز سے سستے ہوتے ہیں اور حدت کو زیادہ جذب کرتے ہیں۔ لاگت اور کارکردگی کے حوالے سے پولی کرسٹلین درمیانے درجے کا انتخاب ہیں۔ مونو پرس سب سے زیادہ پیدا دیتے ہیں اور اِنہیں زیادہ جگہ بھی درکار نہیں ہوتی۔ تِھن فلم سولر پینلز کا وزن خاصا کم ہوتا ہے اور ان کی تنصیب پر خرچ بھی کم آتا ہے۔

مونوکرسٹلین مہنگے پڑتے ہیں اور مینوفیکچرنگ کے دوران ان سے زیادہ ہرج واقع ہوتا ہے۔ ان کا کاربن فٹ پرنٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
پولی کرسٹلین سولر پینلز میں گرمی زیادہ برداشت کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی، ان کی پیداوار بھی کم ہوتی ہے اور زیادہ گرم موسم والے خطوں کے لیے یہ موزوں نہیں۔ مونو پرس بہت مہنگے ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں رہی۔ شدید گرمی سے انہیں نقصان بھی زیادہ پہنچتا ہے۔

کرسٹلین پینلز کے مقابلے میں ان کی عمر کم ہوتی ہے، جگہ بھی زیادہ گھیرتے ہیں اور کارکردگی بھی زیادہ نہیں ہوتی۔

مونوکرسٹلین پینلز کی لاگت زیادہ ہوتی ہے، پولی کرسٹلین پینلز کی لاگت درمیانی ہوتی ہے، مونو پرس پینلز کی لاگت سب سے زیادہ زیادہ اور تِھن فلم پینلز کی لاگت سب سے کم ہوتی ہے۔

تمام سولر پینلز کی 3 جنریشنز ہوتی ہیں۔ جنریشنز کا تعلق لاگت، پیداوار اور پائیداری سے ہے۔ یہ چاروں اقسام مونو ایس آئی، پولی ایس آئی، پی ای آڑ سی اور ٹی ایف ایس سی کہلاتی ہیں۔

مونو ایس آئی سنگل کرسٹل پینل کہلاتے ہیں۔ یہ سنگل پیور سلیکون کرسٹل سے بنائے جاتے ہیں۔ اس کے مزید بہت ٹکڑے ہیں جو اِسے گہرا رنگ عطا کرتے ہیں۔
پولی کرسٹلین پینل اپنی ہیئت اور نیلے رنگ کی بدولت نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کام سلیکون کو پگھلاکر متنوع کرسٹلز کی شکل میں بنائے جاتے ہیں۔ اس سے ضیاع کم ہوتا ہے اور شکل اچھی بنتی ہے۔

پیسیویٹیڈ ایمیٹر اینڈ ریئر سیل (پرس) پینلز بنیادی طور پر مونوکرسٹلین سیلز اور پیسویشن لیئر کی جدید معیاری شکل پیش کرتے ہیں۔ یہ سوچ کی روشنی کو سیل میں داخل کرکے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے سورج کی حدت کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں الیکٹران ری کامبینیشن بھی کم ہوتی ہے اور یوں الیکٹرانز کا بہاؤ آسان ہو جاتا ہے۔

تِھن فلم سولر سیلز (ٹی ایف ایس سی) کی سیکنڈ جنریشن کے پینل بالعموم سلیکون، کیڈمیم اور تانبے جیسا لیئرنگ فوٹو والٹائک مٹیریل استعمال کرکے بنائے جاتے ہیں۔ ان پینلز کی تنصیب آسان ہوتی ہے۔ ان میں لچک زیادہ ہوتی ہے۔ وزن بھی کم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے زیادہ مٹیریل بھی درکار نہیں ہوتا
پہلی جنریشن کے پینل بالعموم روایتی سیٹ اپ میں لگائے جاتے ہیں اور ان میں مونوکرسٹلین اور پولی کرسٹلین شامل ہوتے ہیں۔ دوسری جنریشن تِھن فلم سولر سیلز کی مختلف قسمیں شامل ہیں۔ یہ عام طور پر پاور اسٹیشن کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں عمارتوں میں یا چھوٹے پی وی سسٹمز میں زیادہ آسانی سے جوڑ جاسکتا ہے۔

دوسری جنریشن میں تِھن فلم سولر سیلز کی مختلف اقسام شامل ہیں۔ یہ بالعموم پاور اسٹیشن اور عمارتوں میں چھوٹے پی وی سسٹمز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

تیسری جنریشن میں تِھن فلم ٹیکنالوجیز کی ورائٹی شامل ہے۔ یہ اب بھی تحقیق و ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ ان میں چند بجلی پیدا کرنے کے لیے نامیاتی و غیر ناماتی اجزا استعمال کرتے ہیں۔

Thanks Aaj News

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button