پاکستان

عدالت کا جیل سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی سے آن لائن ملاقاتوں کے انتظام کا حکم

عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی سے آن لائن ملاقاتوں کے انتظام کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں وکلا سے ملاقات کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ سیکیورٹی خدشات کے خاتمے تک بانی پی ٹی آئی سے آن لائن ملاقاتیں کرائی جائیں۔

عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے کل حکم نامے پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کر لی، تحریری حکم نامہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وکلا کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہ کے باعث جیل میں ان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، تو جیل میں اگر آن لائن میٹنگ کی سہولت موجود نہیں ہے تو اس کا بندوبست کیا جائے، اور ضرورت پڑے تو ٹیلی کام کمپنی کو طلب کر کے بیانِ حلفی جمع کرانے کا حکم دیا جائے گا، آن لائن میٹنگ کی جگہ پر انٹرنیٹ تک رسائی مطلوبہ اسپیڈ کی حامل ہونی چاہیے۔

تحریری حکمنامہ کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اعتراض اٹھایا کہ جیل رولز میں آن لائن میٹنگز کی اجازت نہیں ہے، عدالت نے کہا ایڈووکیٹ جنرل کی دلیل میں وزن نہیں، سب کو معلوم ہے جیل رولز 1978 میں ڈرافٹ کیے گئے تھے، تب آن لائن ویڈیو میٹنگ کی سہولت موجود ہی نہیں تھی، نہ کسی اور موقع پر ایسی آن لائن میٹنگ کی ضرورت پیش آئی، اس لیے آن لائن میٹنگز کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آن لائن میٹنگ میں سیاسی گفتگو کی جائے گی، عدالت نے کہا کہ اس عدالت کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایڈووکیٹ جنرل کیا امید رکھتے ہیں، جیل میں فزیکلی ملاقات کرائی جاتی تو اُس میں سیاسی گفتگو کے علاوہ کیا گفتگو کی جاتی؟   ARY News

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button