سپیشل رپورٹ

‘آئی ایم ایف سے آزادی اور وزیر اعظم کا پانچ سال مکمل کرنا بہت مشکل’

واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) نے کہا ہے کہ کمزور اتحادی حکومت اور انتخابی دھاندلی کے الزامات سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کے درمیان موجودہ مالی سال میں اہداف حاصل نا کرنے کی راہ پر گامزن پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج مالیاتی استحکام اور اصلاحات ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے تجارتی اور سرمایہ کاری بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور سرمایہ کاری کے انتظامی اداروں پر مشتمل مالیاتی اداروں کے ایک عالمی ادارے آئی آئی ایف کا کہنا ہے کہ دوسری جانب، شرح مبادلہ، مانیٹری پالیسی، توانائی کی سبسڈیز اور ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ای) کی اصلاحات کے گزشتہ سال کے دوران اچھی پیشرفت کی وجہ سے نئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی راہ میں رکاوٹ بننے کا امکان نہیں ہے۔

آئی آئی ایف کے مطابق سب سے بڑا چیلنج مالیاتی استحکام کی صورت میں آئے گا، اس کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بڑے مالیاتی خسارے کی وجہ سے عوامی قرضہ مالی سال 2009-10 میں جی ڈی پی کے 55 فیصد سے بڑھ کر 2022-2023 میں 79 فیصد ہوگیا ہے۔
آئی آئی ایف نے کہا کہ سیاسی تناؤ اور غیر مستحکم سیاست پاکستان کو درپیش خطرات میں اضافہ کرے گی، انتخابات کے دوران موبائل فون سروس کی معطلی، نتائج کے اجرا میں تاخیر، بڑے پیمانے پر احتجاج، ایک مہلک بم دھماکے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے میں ناکامی سے بھرے الیکشن نے ملک کے اندر تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاستدان ہیں اور یہی بات طاقتور فوج اور عمران خان کے درمیان اختلافات پیدا کیے ہوئی ہے۔
رپورٹ میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کے بڑھتے رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سیاستدانوں اور حامیوں کے خلاف بھاری فوجی کریک ڈاؤن کا ایک اور دور شروع ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مخلوط حکومت کی کمزوری بھی اس میں شامل ہے۔

آئی آئی ایف نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی طور پر مشکل اصلاحات پر دستخط کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے اور ان کی حمایت کے بغیر مسلم لیگ (ن) کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہے، جو کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے یا اسے طول دے سکتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ بھی حکومت یا آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے لیے اچھی نہیں رہی، آج تک پاکستان میں کسی بھی وزیر اعظم نے اپنی پانچ سالہ مدت مکمل نہیں کی، جب کہ پاکستان اس وقت 1958 سے لے کر اب تک اپنے 23 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، یہ ایک خوفناک ٹریک ریکارڈ ہے جس کے جلد ٹوٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھتے ہیں۔ JehanPakistan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button