پاکستان

صوبے کے حقوق نہ لے سکا تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دوں گا، علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ اگر میں صوبے کے حقوق نہ لے سکا تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دوں گا۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کا آئین بار بار توڑا جا رہا ہے لیکن ہماری مخصوص نشستوں پر کسی اور کو نہیں بیٹھنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسروں کی سیٹوں پر بیٹھے خود کو جمہوری پارٹی کہتے ہیں، عوام نے ہمیں آئین اور قانون کی حفاظت کیلیے ووٹ دیے لہٰذا ہم اپنے مینڈیٹ کی بھرپور حفاظت کریں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ فارم 45 اور 47 کی کہانی کچھ اور ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے، مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں 25 سیٹیں جیتی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے پورے ملک میں ایم این اے کی 13 نشستیں جیتی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے 45 فارم کے حساب سے 17 ایم این اے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ڈی آئی خان سے جیتی یہ میں مان رہا ہوں، میں نے جو پارٹی نمبر بتائے ہیں چیلنج کرتا ہوں کوئی غلط ثابت کرے، کسی کو کوئی شک ہے تو فارم 45 کی تحقیقات کر لیں پتا چل جائے گا۔

’بانی پی ٹی آئی اور کارکنوں کو رہا کیا جائے‘

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت سازش کی تحت گرائی گئی جبکہ سائفر کے معاملے پر ابھی تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج ابھی تک کیوں نہیں دکھائی جا رہی؟ 9 مئی کے نام پر پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے، جو واقعے کی جگہ موجود ہیں انہوں نے پارٹی چھوڑی وہ آزاد ہوگئے اور جو اس جگہ موجود نہ تھے اور پارٹی کے ساتھ ہیں ان پر مقدمات ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور کارکنوں کو رہا کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کو رہا کر کے ملک کے اصل مسائل پر توجہ دیں۔

’صوبے کے حقوق نہ لے سکا تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دوں گا‘

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزارت اعلیٰ صوبے کے حقوق کیلیے دی ہے، صوبے اور اس کے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا، یقین دلاتا ہوں خیبر پختونخوا سے اسمگلنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور نے یہ بھی کہا کہ اگر میں صوبے کے حقوق نہ لے سکا تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دوں گا، صوبے کے حقوق نہ ملے تو اسلام آباد میں بھی کسی کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ ARY News

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button