فن اور فنکار

2015 میں پاکستانی تھیٹر کا مستقبل

نئے برس کی شروعات میں اکثر ہمیں سیاسی تجزیے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی حالات پر بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کی باتیں سنائی دیتی ہیں، لیکن نہ جانے کسی کو یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ اٹھارہ کروڑ آبادی والے اس ملک میں سب کو سیاسی اور معاشی اتار چڑھاؤ میں دلچسپی نہیں ہے۔ بہت سارے لوگ ثقافت بالخصوص فنون لطیفہ سے متعلق بھی جاننا چاہتے ہیں۔ اس میں بھی اگر بات تھیٹر کی ہو تو پھر منظرنامہ بالکل ویران دکھائی دیتا ہے۔ اس فن کے متعلق کوئی بات پڑھنے یا سننے کو نہیں ملتی۔ تمام برس تھیٹر والے محنت کرتے ہیں اورنئے برس کی ابتدا میں ان کے پاس اپنے متعلق پڑھنے اور سننے کو کچھ نہیں ہوتا۔

نہ جانے یہ اتفاق ہے یا واقعی اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی ہے کہ 2015 میں پہلی مرتبہ کئی تھیٹر کرنے والوں نے ایک ساتھ اپنے کام کی ابتدا کی ہے، جبکہ مختلف مزاج کا تھیٹر کرنے والے اس مرتبہ میدان میں اترے ہوئے ہیں، جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ سال تھیٹر کے شائقین کے لیے بہت اچھا ہوگا۔

کراچی میں رواں برس جنوری میں مقبول ترین کھیل

”انور مقصود کا دھرنا“ رہا۔ گذشتہ برس کے اختتام پر اس ڈرامے نے اسلام آباد اور لاہور میں بھی مقبولیت سمیٹی۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی کہانی پاکستانی سیاست کے موجودہ حالات کے اردگرد گھومتی ہے۔ میں نے جب انور مقصود صاحب کو سیاسی حالات پر غور و فکر کرتے دیکھا تھا، تو مجھے امید تھی کہ وہ ان حالات پر کچھ لکھیں گے۔ یہ کھیل وہ پاکستان کے کئی شہروں میں پیش کرنے کے بعد اس سال جنوری کے مہینے میں کراچی آ پہنچے۔ ایک مہینے سے زیادہ وقت ہو گیا ہے اور یہ کھیل کامیابی سے جاری ہے۔ اس میں تمام اداکار نوجوان نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اس بات کی پیشن گوئی بھی ہے کہ تھیٹر کے بہتر مستقبل میں یہ نوجوان اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔

جنوری میں ہی کراچی میں پیش کیا جانے والا دوسرا اہم کھیل ”ایک ڈائری جو کھو گئی“ تھا۔ یہ کھیل معروف امریکی ڈرامہ نگار ”نیل سائمن“ کی کہانی سے ماخوذ کیا گیا۔ اس کی ہدایات راحت کاظمی نے دیں۔ اس کھیل میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کے اداکاروں نے حصہ لیا۔ کہانی کو مقامی رنگ دیا گیا مگر متاثر کن نہیں تھی، البتہ سیٹ ڈیزائن، لائٹنگ، کاسٹیوم اور اداکاری کے پہلوؤں پر بہتر کام کیا گیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ ناپا والے رواں برس ”انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول“ کر رہے ہیں، جس کا آغاز مارچ کے دوسرے ہفتے سے ہوگا اور مہینے کے آخر تک چلے گا۔ اس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے تھیٹر گروپس حصہ لیں گے۔ ناپا کی انتظامیہ کا کہنا ہے”اب ہماری پوری توجہ اس انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیول پر ہے۔“ عالمی سطح کے اس تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد کا یہ چوتھا برس ہے۔ پہلی مرتبہ یہ 2012 میں منعقد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں جنوری میں پیش کیا جانے والا کھیل ”مرزا صاحباں“ تھا۔ لوک تھیٹر کے حوالے سے رواں برس کی یہ پہلی کوشش تھی، جس میں اس طرز کے تھیٹر کی بحالی کاعزم بھی کیا گیا۔ اس کھیل میں نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ پنجابی سینما کے کئی سینئر اداکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس کو پسند کیا گیا۔ اس کھیل کے پیش کارعاشق جٹ تھے۔ کھیل کو پسند کیے جانے کے پیچھے یہ وجہ سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ہاں لوک کہانیاں ابھی تک پسند کی جاتی ہیں، بشرطیکہ انہیں کوئی پیش کرنے والا ہو۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف تھیٹر گروپ ”اجوکا“ نے رواں برس کے پہلے مہینے میں اپنا ڈرامہ بین الاقوامی سطح پر پیش کیا۔ امریکا اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں انہوں نے کھیل پیش کیے۔ اسی طرح لاہور میں کمرشل تھیٹر کرنے والے اداکاروں نے بھی اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ رواں برس مزید نئے اسٹیج ڈرامے پیش کریں گے۔ جن میں پاپا اِن سیاپا اور چمکیلی جیسے کھیل شامل ہیں۔ لاہور کے معروف اداکاروں میں نسیم وکی، افتخار ٹھاکر، آصف اقبال، صائمہ خان، سردارکمال، حنا شاہین اور ظفری خان اور دیگر ان کوششوں میں مصروف ہیں۔

اسی طرح کراچی میں کمرشل تھیٹر کرنے والے اداکاروں میں عمرشریف، رؤف لالہ، شکیل صدیقی، تنویر آفریدی اور دیگر شامل ہیں، جن کا خیال ہے کہ رواں برس ڈراموں کو پیش کرنے کے سلسلے کو بحال رکھا جائے، کیونکہ شہر میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے ایسی ثقافتی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے۔ انگریزی تھیٹر کرنے والوں میں ندا بٹ اور شاہ شرابیل بھی ہر سال ایک کھیل پیش کیا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ رواں برس وہ بھی کمرشل تھیٹر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ کراچی کے کچھ دیگر مقامی تھیٹر گروپس، جن میں تھیسپینز تھیٹر، تحریک نسواں، کتھا اور دیگر تھیٹر گروپس کا کام بھی رواں سال سامنے آئے گا۔

جو لوگ کراچی اورلاہور میں پنجابی اور اردو زبان میں مزاحیہ اسٹیج ڈرامے کرتے ہیں، پاکستان میں انہیں بھی تھیٹر کرنے والوں میں شامل کیا جاتا ہے اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ہم بھی تو کہانی اور کرداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اسٹیج پر ہی اس فن کا اظہار ہوتا ہے تو پھر اس کو تھیٹر کیوں نہ کہا جائے؟ لیکن وہ لوگ جن کے تھیٹر کا موضوع کلاسیکی کہانیاں یا مغربی ادیبوں کی کہانیوں کے تراجم ہوتے ہیں، یا وہ ان کہانیوں سے ماخوذ کر کے مقامی ماحول میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں، ان کا یہ خیال ہے کہ صحیح معنوں میں صرف ہم تھیٹر کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر گذشتہ برسوں میں مالی طور پر کامیاب ہونے والے تھیٹر کو دیکھا جائے تو وہ انگریزی زبان میں کیا جانے والا تھیٹر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پنجابی زبان میں بننے والے اسٹیج ڈرامے ہیں۔ عمدہ بات یہ ہے کہ دونو ں میں سوائے زبان کے تمام چیزیں مشترک ہیں، اسی لیے دونوں ہی مقبول ہیں۔ ناپا ریپرٹری تھیٹر کے تحت ہونے والے ڈراموں کی نوعیت عموماً سنجیدہ ہوتی ہے اور ان کی زیادہ تر کہانیوں کا ماخد مغربی ادب ہے۔ تحریک نسواں، کتھا اور دیگر ڈراموں کا ماخذ بھی مغرب کا ادب ہی ہے۔ اجوکا تھیٹر کے زیادہ تر ڈرامے لوک تھیٹر سے قریب ہیں اور اسی طرح رفیع پیر تھیٹر کے کٹھ پتلی ڈراموں کا مزاج بھی لوک ثقافت سے قریب ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ رواں برس کس مزاج کے تھیٹر کو زیادہ فروغ ملتا ہے یا پھر ماضی کی طرح وہی کھیل مقبولیت حاصل کریں گے جن کو تھیٹر کی دنیا میں سنجیدہ نہیں لیا جاتا، لیکن اس ساری بحث میں تھیٹر دیکھنے والے شائقین پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ آخر کار حتمی فیصلہ تو وہی کرتے ہیں۔ تو کیا ہمارے دیکھنے والوں کا ذوق یکسانیت کا شکار ہو گیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایک نے اپنے آپ کو دینا ہے، بالخصوص تھیٹر دیکھنے والوں نے۔

Leave a Reply

Back to top button