پاکستان سے

2020ء میں سیاحت اور پاکستان…… فدا خٹک

آج کل ایک غیر ملکی جریدے کی اس رپورٹ کا بہت چرچا ہے جس میں پاکستان کو2020ء کیلئے بہترین سیاحتی مقام قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اس رپورٹ کو لے کر اسے موجودہ حکومت کی ایک بہت بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ بلاشبہ ملک خداداد پاکستان کو اللہ نے بڑی فیاضی سے قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ شمالی علاقوں کے برف پوش اور جنگلات سے ڈھکے پہاڑ ی علاقے ہوں یا پھر لہلاتے میدان، پنجاب اور سندھ کی لق ودق صحرائیں ہوں یا پھر بلوچستان اور سندھ کے نیلے ساحل اور اس کے علاوہ ہزاروں سال پر محیط تاریخی ورثہ، یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی سیاح کے لئے کشش کا باعث بنتے ہیں اور پاکستان پوری طرح ان تمام ضروریات پر پورا اترتا ہے جو کسی بھی سیاح کو اپنی طرف کھینچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار موسم ملتے ہیں۔ ایک جانب اگر پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی اور درجہ حرارت پچاس سینٹی گرڈ کو چھو رہا ہو تو دوسری جانب شمال میں ہنزہ، سکردو، ناران کاغان، کمراٹ،کالام، مالم جبہ اور چترال میں درجہ حرات صفر کی حدود کو چھو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح دسمبر میں جہاں پورا ملک شدید سردی کی لپیٹ میں ہوتا ہے وہاں کراچی اور پنجاب کے بعض علاقوں میں موسم معتدل رہتا ہے اور پنکھے اور ایئرکنڈیشنرز چل رہے ہوتے ہیں۔ یہی نہیں دنیا کا کون سا پھل ہے جو یہاں نہیں ملتا اور کونسی فصل ہے جو یہاں نہیں اُگتی۔
یہ بھی پڑھیں! 20 بہترین سیاحتی ممالک میں پاکستان سرفہرست
دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں پر نہ تو صنعتیں ہیں اور نہ ہی زراعت لیکن اس کے باوجود وہاں پر قومی زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ صرف اور صرف سیاحت سے پورا کیا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس صنعت سے وابستہ ہوتے ہیں اور مقامی کاروبار چمک اٹھتا ہے لیکن دوسری جانب بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک کسی بھی حکومت نے اس جانب وہ توجہ نہیں دی جس کی ضرورت ہے۔ اس کا اندازہ شمالی علاقوں میں سڑکوں، ہوٹلوں اور دیگر ضروریات زندگی کی عدم موجودگی سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ مری اور گلیات کو چھوڑ کر دیگر تمام سیاحتی مقامات کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، یہاں پر نہ تو ڈھنگ کے ہوٹل اور ریسٹ ہاؤس موجود ہیں اور نہ ہی دیگر ضروریات زندگی۔
کسی بھی علاقے تک پہنچنے کیلئے دنیا میں سڑک اور فضائی روٹس کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن پاکستان کے بیشتر سیاحتی مقامات تک پہنچنے کے لئے دونوں اہم ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔گلگت بلتستان اور سوات کی حسین وادیوں اور چترال کے آبشاروں تک پہنچنے کے لئے سیاحوں کو چوبیس گھنٹے سے زائد کا ٹریول کرنا پڑتا ہے حالانکہ سکردو، گلگت، سیدوشریف، سوات اور چترال میں ہوائی میدان بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں تک فضائی سروس بحال نہیں ہے۔ حکومت نہ جانے کیوں ان علاقوں تک فضائی سروس شروع نہیں کرتی۔ اگر حکومت ان ہوائی میدانوں کو فعال بناکر یہاں کے لئے روزانہ کی بنیاد پر فلائٹس کا بندوبست کرے تو نہ صرف سیاح اس سے فائدہ اٹھائیں گے بلکہ مقامی لوگ بھی زمینی راستوں کے تکلیف دہ سفر سے چھٹکارا پانے کے لئے فضائی سفر کو ترجیح دیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس سفر کو اتنا مہنگا نہ بنایا جائے کہ لوگ جہاز کا ٹکٹ لینے سے قبل کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں تک رسائی کے لئے سڑکوں کی تعمیر کا کام بھی تیزکیا جانا چاہئے۔ ناران کاغان تک بلاشبہ ایک اچھی سڑکی تعمیر کی جا چکی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں پر گرمیوں میں لاکھوں افراد تفریح کے لئے جاتے ہیں۔ سوات کے ساحتی مقام کالام تک سڑک کی تعمیر جاری ہے، لیکن کمراٹ تک بھی سڑک کی تعمیر وقت کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں! ہمارے آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ کے رنگ…… اختر سردارچودھری
صوبائی حکومت سیاحت کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دے رہی ہے اور اس حوالے سے پرانے سیاحتی مقامات کی ترقی کے ساتھ ساتھ نئے ساحتی مقامات بھی کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ اقدامات بلاشبہ قابل تحسین ہیں تاہم حکومت کو نئے سیاحتی مقامات کھولنے کے ساتھ ساتھ وہاں پر سہولیات کی موجودگی پر بھی توجہ دینا چاہیے۔ مری،کالام، مالم جبہ اور ناران کاغان میں ہوٹل تو موجود ہیں لیکن ان ہوٹلوں کا معیار انتہائی ناقص ہے اور یہاں پر رہائش اور کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے سیاح اکثر وبیشتر شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ یہاں پر اچھے معیار کی ہوٹلنگ کا بندوبست کرے تاکہ غیر ملکی سیاح یہاں آئیں تو انہیں بین الاقوامی سہولیات کی حامل رہائش مل سکے۔ پاک فوج اور قوم کی قربانیوں کے باعث ملک میں امن قائم ہو چکا ہے اور اب کوئی شخص بلاخوف خطر کہیں بھی جا سکتا ہے لیکن اکثر اوقات غیر ملکی سیاحوں کے حوالے سے یہ شکایات ملتی ہیں کہ انہیں جگہ جگہ چیکنگ کے نام پر تنگ کیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ صوبے میں سیاحتی مقامات پر تعینات کرنے کے لئے سیاحتی پولیس کا شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور امید ہے کہ اس فورس کی تعیناتی کے بعد سیاحوں کی ایک بہت بڑی مشکل حل ہوجائیگی۔
خیبر پختون خوا کے سینئر وزیر برائے سیاحت عاطف خان کا کہنا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لئے مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں نئے سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی تعمیر کے لئے 5 ارب روپے کی خطیر رقم کی منظوری دے دی جا چکی ہے۔ پہلے مرحلے میں مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں نئے سیاحتی مقامات تک 14 سڑکیں تعمیر کی جائیں گی جس پر اگلے مہینے جنوری سے تعمیراتی کام شروع ہو جائیگا۔ نئے سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی تعمیر میں مالاکنڈ ڈویژن کے اناکڑ، مرغزار، برج بانڈہ، کافر بانڈہ، مدین، بشی گرام، ارین، دارال،گودر جھیل اور بحرین روڈز شامل ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے ماہنور ویلی، گنول، پاپڑنگ، شوگران، کورا بن تا منڈی سیران، کومل گلی اور سہرہ روڈ شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کا آغاز بھی جلد کیا جائیگا جس میں مزید نئے سیاحتی مقامات تک سڑکیں تعمیر کی جائیگی۔ سینئر وزیر کاکہنا ہے کہ نئے سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی تعمیر میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، صوبے میں ورلڈ بنک کے تعاون سے مربوط سیاحتی زونز بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں، سیاحت کے فروغ کے لئے گزشتہ ایک سال میں اٹھائے گئے اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی شروع ہوئی ہے، حکومت کی بہترین سیاحتی حکمت عملی کی بدولت نیا سال پاکستان میں سیاحت کے لئے نیک شگون لے کر طلوع ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں! دنیا کے پانچ خطرناک مگر پُرکشش ریلوے ٹریکس…… عزیز زہرا ملک
واضح رہے کہ معروف عالمی سیاحتی جریدے ”کانڈے ناسٹ ٹریولز“ نے پاکستان کو 2020ء میں ٹریولنگ اور سیاحت کے لئے بہترین جگہ قرار دیا ہے۔ میگزین نے 2020ء میں سیاحت کے لئے 20 بہترین ممالک تجویز کئے ہیں جن میں پاکستان سر فہرست ہے۔ میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے امن امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے سیاحت کے شعبے کو کافی نقصان پہنچا ہے لیکن اب حالات تسلی بخش ہیں اور سیاح بلاخوف پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button