تجزیہسیاسیات

28دسمبر کی اے پی سی کے انتظامات مکمل

لاہور(22دسمبر 2017)پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ31دسمبر کے بعد قاتل حکمرانوں کاانجام دنیا دیکھے گی۔ رانا ثناء اللہ کی تنہا قربانی سے بات نہیں بنے گی، قاتل اعلیٰ کو بھی مکمل انصاف کیلئے مستعفی ہونا پڑے گا، شہباز شریف لاہور کے تمام تھانے بھی جلا دیں تو پھر بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے ثبوت ختم نہیں ہونگے ۔اشرافیہ کی بربریت کی کہانی پاکستان کے عوام کے دلوں پر لکھی ہے ،28دسمبر کی اے پی سی کے انتظامات مکمل کر لیے ، احتجاج کے فیصلے پر تمام جماعتیں مہر لگائیں گی۔انہوں نے شہباز شریف کے وزیراعظم کے خواب دیکھنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ غرق ہونے سے پہلے فرعون بھی بڑا پراعتماد تھا۔اشرافیہ کا ٹھکانہ اب جیل ہے۔ نواز شریف تحریک عدل نہیں تحریک دجل چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں ،علماء مشائخ، گدی نشین اور مختلف مزدور یونین اور ڈیپارٹمنٹل آرگنائزیشنز کی طرف سے بھی اظہار یکجہتی اور پرامن احتجاج میں شرکت کے پیغامات مل رہے ہیں، وہ گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ میں مختلف وفود اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے شہباز حکومت اہم ریکارڈ ضائع کررہی ہے، کچھ اہم شواہد ہم نے محفوظ کر لیے ہیں جو ہمیں جسٹس باقر نجفی رپورٹ پبلک ہونے کا حکم آنے کے بعد ملے ۔تھانہ فیصل ٹاؤن میں بھی آگ لگائی گئی تھی تاہم اب کوئی ہتھکنڈا حکمرانوں کو انجام سے نہیں بچا سکتا۔ دانیال ، طلال، نہال جیسے فصلی بٹیرے بہت جلد اشرافیہ کے اقتدار کی منڈیر سے اڑ جائیں گے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا پبلک کرنا انصاف کی طرف اہم پیشرفت ہے اور یہ اہم پیشرفت ڈاکٹر طاہرالقادری کی استقامت اور قانونی جدوجہد کا ثمر ہے۔ رپورٹ پبلک ہونے کے بعد ان تمام عناصر کو جواب مل گیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری مظلوموں کو انصاف دلوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ آنے سے عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے کارکنان کا مورال بلند ہے اور کارکنان کی اپنے قائد کیساتھ محبت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کارکنوں کے ساتھ ساتھ عوامی ،سیاسی حلقوں کو بھی معلوم ہو گیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری جو موقف اختیار کرتے ہیں اسے انجام تک پہنچاتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button