دلچسپ و حیرت انگیز

32 منزلہ قبرستان…… امجد محمود چشتی

دنیا کی آبادی خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ یہاں نہ صرف زندہ لوگوں کے لئے رہائش کم پڑتی نظرآ رہی ہے بلکہ مرنے کے بعد مناسب ابدی آرام گاہ کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ موت ایک اٹَل حقیقت ہے اور تمام بنی نوع انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ لہٰذا بعد از مرگ جسدِ خاکی کے ساتھ دفنا کر یا جلا کر معاملات کئے جاتے ہیں۔کچھ معاشروںمیں cremation کے ذریعے لاش کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے جب کہ الہامی مذاہب میں میت کو دفن کرتے ہیں۔ آبادی بڑھنے کے باعث قبریں اور زمین کم پڑتی جا رہی ہے اور شہری علاقوں میں قبر کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور کہیں کہیں دو منزلہ قبور بھی بنائی جاتی ہیں۔
اس گمبھیر صورت حال میں بعض ممالک میں زمینی گورستان کی بجائے عمارت کی شکل میں عمودی قبرستانوں کا رواج بڑھ رہا ہے۔ قبروں کے لئے زمین کی دستیابی اور آبادی کے تناسب کے پیش نظر برازیل کے شہر سینٹوس میں 1983ءمیں ایک بلندوبالا عمارت کی تعمیر شروع ہوئی جو اب دنیا کی سب سے اونچی قبرستانی عمارت بن چکی ہے اور اس کا اندراج اس حوالے سے گنیز بک آف ریکارڈ میں بھی ہو چکا ہے۔ یہ اک پہاڑکے دامن میں بتیس منزلہ خوبصورت بلڈنگ ہے جس کی بلندی ایک سو آٹھ میٹر ہے۔
اس کا نام میموریل نیکرو پول ایکو مینیکا ہے۔ اسے کرائے کا قبرستان بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے ا حاطہ میں لان، پارکینگ، چرچ، باغ ایک آبشار اور ریسٹورنٹ بھی ہے۔ بتیس منزلوں میں متعدد بلاکس ہیں اور ہر بلاک میں ایک سو پچاس مقبرے اور ہر مقبرے میں چھ قبریں بنی ہیں۔ اس بلند قبرستان میں ایک وقت میں 25000 میتوں کی گنجائش ہے۔ یہاں تین سال تک لاشیں کرائے پہ رکھی جاتی ہیں اور تین سال بعد ان کی باقیات ورثاءکے حوالے کرتے ہیں تا کہ حسب منشاءکسی اور جگہ دفن کر سکیں یا پھر ضائع کر سکیں۔
قبروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے ہوا کے گزرنے کے مناسب انتظامات ہیں۔ کچھ قبریں مستقل بھی خریدی جاتی ہیں جن کی قیمت تقریباَ پچاس لاکھ پاکستانی روپے ہے جبکہ تین سال کے لئے کرایہ درجہ بندی کے لحاظ سے پانچ لاکھ سے بیس لاکھ تک ہے۔ قبر جتنی اونچائی پر ہوگی قیمت اسی قدر زیادہ ہوگی۔ امیر لوگ اپنی زندگی میں بھی بکنگ کروا سکتے ہیں۔ یہاں غریب لوگ قبریں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس قبرستان سے کسی بھی اور کاروبار کی نسبت کہیں زیادہ آمدن ہو رہی ہے۔ یہ عمارت برازیل کا بہت بڑا سیاحتی مقام بن چکاہے اور لاکھوں ٹورسٹ اسے دیکھنے جاتے ہیں۔ انڈیا، اسرائیل اور دیگر ممالک میں بھی ایسی عمارات بن رہی ہیں۔ تاہم دنیا میں بسنے والے زندہ لوگوں کے لئے لاشوں کی تدفین ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ دنیا تو بس مسافر خانہ ہے اور ہمیں اپنی آخری آرام گاہوں میں ہر حال میں جانا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button