ادبپاکستان

پاکستان کو بنے 75 سال ہو رہے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ پا کستان کس طرح بنا۔انگریز اور ہندووں نے کیا کیا مشکلات کھڑی کیں۔ ہمارے بزرگوں نے پا کسان بنتے دیکھا وہ ہمیں تمام واقعات اور حالات سے آگاہ کر تے رہتے ہیں۔شکر الحمد للہ یہ تاریخ دان اور پاکستان بننے کے چشم دید گواہ ایک بڑی تعداد میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ آپ کسی بھی جگہ کھڑے ہو جائیں اور کسی بھی بڑی عمر کے بزرگ سے پوچھ لیں کہ پاکستان کس طرح بنا تھا تو یہ موقعے کا گواہ پاکستان بننے کا سارا منظر آنکھوں میں بھر لیتا ہے اور ہمیں ساری آگاہی دینا شروع کر دیتا ہے ۔
کچھ ایسے بھی ہیں جو بہت چھوٹے تھے لیکن ان کے ماں باپ نے انہیں پاکستان بننے کے حالات اس طر ح سے بار بار سنائے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پورے ہوش و حواس میں پاکستان بنتے دیکھا ہے ۔
لیکن اب چشم دید گواہوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے ان لوگوں کی ضعیفی عمر کی ٓآخری حدوں کو چھو رہی ہے ۔تاریخ کی گواہ ایک نہایت قیمتی اور انمول نسل اپنی عمر پوری کر رہی ہے
پھر ان کے بعد چشم دید گواہ ہم لوگ ہونگے ہم بتائیں گے کہ فلاں نے یہ بات بتائی تھی اور فلاں نے ایسا کہا تھا۔
ان چلتی پھرتی لائبریوں سے بہت کچھ اکٹھا کیا جا سکتا ہے ۔ان کی ویڈیو بنا کر محفوظ کی جا سکتی ہے ۔ یہ ہمارا ورثہ ہیں ہمارا اثاثہ ہیں ۔ ہر فرد کے پاس مختلف سچائیاں ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ لیکن تاحال کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا کہ یہ سرمایہ مخفوظ کر لیا جائے۔ وہ یادیں جو مستقبل کے لئے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں آنیوالی نسلیں پاکستان کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں، یہ قیمتی لائبریاں حکومتی نگاہوں سے نجانے اوجھل کیوں ہیں۔ اس سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔

Leave a Reply

Back to top button