سیاسیات

39 ملکی فوجی اتحاد:'راحیل شریف کی سربراہی اصولی طور پر طے'

جنرل راحیل شریف کو فوجی اتحاد کا سربراہ بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ‘اس کی رسمی کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے لیکن اصولی طور پر یہ طے ہوگیا ہے کہ وہ وہاں جائیں گے جبکہ رسمی کارروائی بھی ہوجائے گی’۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ‘میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کو اپنی رضامندی سے آگاہ کردیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی حکومت نے تحریری طور پر اس حوالے سے درخواست کی تھی جس کے بعد انہیں تحریری طور پر جواب دیا گیا ہے’۔

جنرل راحیل کی جانب سے درخواست کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘جب دونوں حکومتوں میں اتفاق ہوا تو یہ حکومتوں کا معاملہ ہوگا اور اگر ان کا ذاتی معاملہ ہے تو اس کا مجھے علم نہیں’۔

وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ’میں رواں سال کے اوائل میں عمرے کی غرض سے سعودیہ گیا تھا، اسی دوران وہاں کے حکام سے بھی ملاقات ہوئی تھی جبکہ 39 ملکی فوجی اتحاد کا خاکہ بنانے کے حوالے سے تمام ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس مئی میں متوقع ہے‘۔

خیال رہے کہ خواجہ آصف نے 11 جنوری کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو 39 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے سے قبل حکومت کی این او سی کی ضرورت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزارت دفاع کے جو قوانین فوج سے ریٹائر ہونے والے افسران پر عائد ہوتے ہیں وہ راحیل شریف پر بھی لاگو ہوں گے’۔

دوسری جانب سینیٹ کے اسی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ پیشکش نہیں کی گئی ہے’۔

Leave a Reply

Back to top button