تازہ ترینسچی کہانیاں

6 دہائیوں سے معمہ بنی ہوئی تصویر جس کا راز اب تک معلوم نہیں ہوسکا

اور وہ معمہ تصویر میں بچی کے سر کے اوپر ایک سفید لباس اور ہیلمٹ پہنے کسی شخص کا ہے جس کے بارے میں فوٹوگرافر کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایک اسپیس مین کی تصویر کھینچی لی تھی۔

کچھ تصاویر ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر عام سی ہوتی ہیں اور دیکھنے میں کچھ خاص بھی نہیں ہوتیں مگر پھر بھی بہت زیادہ مقبول ہوجاتی ہیں۔

1964 کے موسم گرما میں کھینچی گئی ایک تصویر بھی ان میں سے ایک ہے جو لگ بھگ 57 سال بعد بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔

برطانیہ کے علاقے کارلایل کے ایک فائرمین نے اپنی بیٹی کی تصویر سیر کے دوران کھینچی تھی اور یہ دنیا بھر میں شہہ سرخیوں کا حصہ بن گئی تھی۔

اسے سولوے اسپیس مین مسٹری کا نام بھی دیا گیا جسے جم ٹیمپلٹین نے کھینچا تھا جن کا انتقال ہوچکا ہے۔

انتقال سے قبل 2011 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا ‘ہم معمول کی تفریح کے لیے باہر گئے تھے اور ایک مقام کا انتخاب کیا’۔

انہوں نے کہا ‘ہم بیٹھے گئے اور پھر میں نے کہا کہ اب میں تمہاری اس نئے لباس میں کچچچھ تصاویر لوں گا اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے’۔

ایسا کچھ ہونے سے ان کی مراد دنیا بھر کی میڈیا توجہ تھی اور دہائیوں تک چلنے والی بحث ہے جس نے اس تصویر کو معمہ بنارکھا ہے۔

اور وہ معمہ تصویر میں بچی کے سر کے اوپر ایک سفید لباس اور ہیلمٹ پہنے کسی شخص کا ہے جس کے بارے میں فوٹوگرافر کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایک اسپیس مین کی تصویر کھینچی لی تھی۔

جس جگہ وہ گئے تھے وہاں ان کی بیوی اینی اور ایک گاڑی میں بیٹھے 2 معمر افراد کے سوا کوئی اور نہیں تھا اور جم ٹیمپلٹین نے ہمیشہ یہی کہا کہ انہوں نے اس دن اس جگہ پر کسی اور کو نہیں دیکاھ تھا۔

درحقیقت تصویر کھیچنے کے بعد بھی انہیں وہاں کچھ نظر نہیں آیا تھا بلکہ اس پراسرار شخص کی موجودگی کا انکشاف اس وقت ہوا جب تصویر کے پرنٹ نکلوائے گئے اور وہاں موجود شخص نے اس سفید لباس کی جانب توجہ دلائی، جس کے بعد جم ٹیمپلٹین کو احساس ہوا کہ وہ کوئی شخص یا کچھ اور بھی موجود تھا۔

وہ اس تصویر کو مقامی پولیس کے پاس بھی لے گئے جنہوں نے قرار دیا کہ اس میں کچھ بھی غیرمعمولی نہیں۔

فلم کمپنی کوڈک کا بھی یہی کہنا تھا کہ بلکہ انہوں نے فوٹو کو جعلی ثابت کرنے پر انعام دینے کی پیشکش بھی کی، مگر کسی نے بھی ایسی کوشش نہیں کی۔

اور پھر یہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی، پہلے مقامی اخبار میں اس بارے یں خبر شائع ہوئی جس کے بعد ڈیلی میل اور ایکسپریس نے اسے اٹھالیا۔

جم ٹیمپلٹین کو دنیا بھر سے خطوط ملنا شروع ہوگئے اور ایک مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ کلارک کے مطابق ‘کچھ لوگوں کا دعویٰ تھا کہ وہ بھوت ہے، دیگر کا ماننا تھا کہ جم یا ان کی بیٹی کے پاس کسی قسم کی ماورائی طاقتیں ہیں جس کا انہیں احساس نہیں، پھر یہ معاملہ عجیب سے عجیب ترین ہوتا چلا گیا’۔

پھر 2 ‘مین ان بلیک’ جن کی جانب سے خود کو بس نمبر 9 اور نمبر 11 کہا گیا، نے آکر اس جگہ کے بارے میں پوچھا جہاں تصویر لی گئی تھی۔

مگر سب سے حیران کن واقعہ تصویر کھینچنے کے کچھ دن بعد جنوبی آسٹریلیا کے علاقے وومیرا میں پیش آیا جہاں ایک میزائل کا تجربہ ہورہا تھا۔

اس میزائل ٹیسٹ کو اس وقت ملتوی کردیا گیا جب ٹیکنیشنز نے فائرنگ رینج میں 2 افراد کو دیکھنے کا دعویٰ کیا۔

جب سولوے اسپیس مین کی تصویر ایک آسٹریلین اخبار میں ان ٹیکنیشنز نے دیکھی تو وہ دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے اس سے ملتے جلتے افراد کو ہی میزائل کے قریب دیکھا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میزائل برطانیہ کے علاقے کامبریا میں تیار ہوئے تھے اور کارلایل بھی وہی واقع ہے۔

جیسے ہی اس کہانی کو مقبولیت حاصل ہوئی تو وومیرا میں لوگں نے ایک اڑن طشتری کو دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا مگر کیا واقعی ان واقعات کا کارلایل کی تصویر سے کوئی تعلق تھا؟

تو ڈاکٹر ڈیوڈ کلارک کا جواب نفی میں تھا، انہوں نے میزائل کے التوا کی بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو بھی دیکھی تھی اور ان کے خیال میں کیمرے کے لینس میں روشنی زیادہ تھی۔

جہاں تک ٹیکنیشنز کی جانب سے 2 افراد کو دیکھنے کا دعویٰ تھا، تو اس کے بارے میں ڈاکٹر ڈیوڈ نے کہا کہ اس کا کوئی فوٹوگرافک ریکارڈ نہیں۔

تاہم جم ٹیمپلٹین کی اس تصویر نے امریکا اور سوویت یونین کے درمیان جاری خلائی دوڑ میں عوامی دلچسپی کو بڑھا دیا۔

ڈاکٹر ڈیوڈ کے مطابق ‘جم کی تصویر میں بچی کے پیچھے موجود فرد کی تصویر کسی ناسا کے خلاباز جیسی نظر آتی ہے’۔

مگر کیا یہ تصویر ایک افواہ سے زیادہ کچھ نہیں؟ تو ڈاکٹر ڈیوڈ کے خیال میں یہ درست نہیں۔

انہوں نے کہا ‘مجھے مکمل یقین ہے کہ جم سچ بول رہے تھے اور انہوں نے خود اس کی کوئی وضاحت نہیں تھی، اگرچہ مین ان بلیک کی کہانی پر مجھے زیادہ یقین نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ ان کا تعلقق حکومت سے تھا’۔

تاہم اسپیس مین کی بات ہے تو ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا تھا ‘اس دن کھینچی گئی تصاویر میں سے ایک میں جم کی بیوی بھی موجود تھی، جو جم کے مطابق بچی کی تصویر کے کھینچنے کے وقت اس کے پیچھے کھڑی تھی’۔

انہوں نے مزید کہا ‘میرے خیال میں کسی وجہ سے اس کی بیوی اس مقام پر چلی گئی ہوگی اور جم نے اسے دیکھا نہیں ہوگا کیونکہ جو کیمرا اس کے پاس تھا اس میں ویو فائنڈر سے سامنے کا صرف 70 فیصد منظر ہی نظر آتا ہے’۔

ان کے بقول اینی کی پشت کیمرے کی جانب ہوگی اور تصویر اوور ایکسپوز ہونے کی وجہ سے ان کا نیلا لباس سفید نظر آنے لگا ہوگا۔

تاہم یہ ان کا خیال ہے جس کی تصدیق تو اب تک نہیں ہوسکی اور یہ تصویر 57 سال بعد بھی معمہ بنی ہوئی ہے جو ڈاکٹر ڈیوڈ کے خیال میں آئندہ 50 برسوں تک بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔

Leave a Reply

Back to top button