منتخب کالم

فوبیا اور دھمکی امریکہ کے مرغوب ہتھیار

مظفر علی
ایک امریکی سفید فام قوم پرست کیون اسٹروم کا کہنا ہے کہ اصل حکمران وہ ہے جس کے خلاف آپ تنقید نہیں کر سکتے۔کہتے ہیں سیاسی تباہی کے بہت سارے راستے ہوتے ہیں جن میں لالچ، تکبر، کرشماتی شعلہ بیانی اور شاید ان میں سب سے زیادہ خطرناک چیز ’’خوف‘‘ ہے۔ لوگ جب خوف محسوس کرتے ہیں تو وہ گھبرا جاتے ہیں اور جب خوف ہسٹیریامیں بدل جائے تو یہ بڑے پیمانے پر تشدد کو جنم دیتا ہے۔ جب سیاستدان عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہماری بقا اصل میں عوام کی بقا ہے تو پھر کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ انسانی نفسیات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی کی آواز دبانے اور اسے آزادانہ سوچنے پر روکنے اور اس کی مادی اور غیرمادی ملکیت پر قبضے کے لیے استعمال ہونے والا سب سے بڑا ہتھیار ہمیشہ خوف ہوتا ہے۔کمزور شخص طاقتور سے لڑنے سے ڈرتا ہے اور یہی عمومی رویہ ریاستوں کی سطح پر بھی ہوتا ہے۔دفاعی اور معاشی طور پر کمزور ملک اپنے سے زیادہ طاقتور ملک کے آگے سرنگوں ہوجاتا ہے اور اس خوف کے ہتھیار کو موجودہ دور میں امریکہ سے زیادہ بہتر طریقے سے کوئی استعمال کرنا نہیں جانتا۔ وہ اپنے جغرافیائی اور سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے وہ دنیا میںخود کو سب سے زیادہ طاقتور ملک کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اس امریکی سوچ کے اوپر نوبل انعام یافتہ مرحوم ہارولڈ پنٹر نے ایک بار کہا تھا کہ امریکہ کا دنیا بھر میں کام کرنے کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ مخالفین کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر تم لوگوں نے میرے پچھواڑے کو نہ چوما تو میں میں تمہارے سر کو ٹھوکروں پر رکھ لوں گا۔ امریکہ کی ملکی پولیسی کا بھی محور اسی نظریے پر ہے۔امریکہ اپنے تسلط کی مخالفت کبھی برداشت نہیں کرتا اور وہ چاہتا ہے کہ سب اس کے بنائے ہوئے اصولوں کے آگے جھک جائیں۔ پنٹر نے مزید کہا کہ واشنگٹن اقوام متحدہ ، بین الاقوامی قوانین یا اپنے مخالفین کی رائے کو جوتی کی نوک پر رکھتا ہے اور اس کے نزدیک بین الاقوامی قوانین نامرد اور غیر متعلقہ افراد کی طرح ہیں۔ حال ہی میں روسی صدر ولادی میر پوٹن نے افغانستان میں امریکی انخلاء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو 20سالہ جنگ میں سانحات اور نقصانات کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ انہوں نے امریکی تکبر اور غرور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ طاقت کے زور پر دوسرے ملکوں میں اپنے نظریات کو ٹھونسے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے تبصرہ کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پوٹن کے مشورے پر غور کرے اور دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے سے باز آئے۔
چینی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت منتخب ممالک کے پاس پیٹنٹ نہیں ہے۔دنیا میں کوئی جمہوریت کا رہنمانہیں ہے اور نہ ہی کسی ملک کو جمہوریت پر دوسروں کو لیکچر دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے جمہوری ملکوں کے اتحاد اور جمہوریت بمقابلہ آمریت کے تصوارت کو دوسروں پر اپنا تسلط قائم کرنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔ طالبان کے قبضے کے بعد کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد وائٹ ہاس میں بریفینگ کے دوران پریس سیکرٹری جین ساکی نے بڑے تکبرانہ انداز میں میڈیا کو بتایا کہ امریکی صدر جوبائیڈن حملے میں ملوث دہشتگردوںکا نام ونشان دنیا سے مٹا دیں گے۔ یہ ایک سچ ہے کہ امریکہ کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیشہ دشمنوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر دشمن کا کوئی وجود نہیں تو اسے پیدا کیا جاتا ہے اور خوف و ہراس وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے لوگوں کی رائے کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑا جا سکتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ماضی میں اس طرح کے من گھڑت خوف وہراس کے قصوں سے کتنی بار امریکی عوام کو بیوقوف بنایا گیا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے دنیا کا سب سے آسان ترین کام امریکی عوام کو بیوقوف بنانا ہے۔اسی عادت کو دیکھتے ہوئے گور وڈال نے کہا تھا کہ امریکیوں کو بار بار بھولنے کی بیماری لاحق ہے.
مورخ اسٹوڈز ٹیرکل نے اسے درست کرتے ہوئے کہا:گوروڈال ، یہ نسیان کا شکار نہیں بلکہ یہ الزائمر کا شکار ریاستہائے متحدہ ہے۔امریکی نائب صدر کملاہیرس کا جنوب مشرقی ایشیا کے حالیہ دورہ بھی اسی تناظر میں تھا کہ خطے میں موجود ممالک ویت نام، سنگاپور اور فلپائن کو یہ احساس دلایا جائے کہ اگر وہ چین کے بڑھتے ہوئے تسلط کو روکنا چاہتے ہیں تو انہیں امریکہ کی شراکت داری کو قبول کرنا ہوگا۔ ان ممالک میں یہ عمومی خوف پایا جاتا ہے کہ چین آہستہ اور غیرمحسوس طریقے سے اہم سمندری راستوں پر قابض ہورہا ہے اور امریکہ سے بہتر کوئی دوسرا ملک نہیں جو خوف کی اس علامت کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتا ہو۔ امریکی صدر جوبائیڈن بھی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح دنیا میں اپنے اتحادیوں کو یہ باور کرانے میں لگا ہوا ہے کہ دنیا کے امن و عامہ کو سب سے زیادہ خطرہ چین سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بات خواہ وہ کتنی ہی بے بنیاد ہو اگر میڈیا پر بارباردہرائی جائے لوگ اس پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بائیڈن نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے چین کبھی عالمی لیڈر نہیں بن سکتا۔ امریکی ، یورپی اور مشرقی ایشیائی ممالک کی عوام کو بار بار یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر چین کو نہ روکا گیا تو وہ آپ کے حصے کا بھی کھانا کھا جائے گا۔ جوبائیڈن جس کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی طرح چین کے ساتھ باہمی امن و امان کے ساتھ چلے گا تاہم صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کے بارے میں ان کے مخاصمانہ رویے میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اپنے مطلوبہ مقاصد کے لیے عوام میں یہ خوف پیدا کرتا رہتا ہے کہ چین اور روس امریکہ پر سائبر حملہ کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں میڈیا میں یہ من گھڑت خبریں چلائی گئیں تھیں کہ چین، روس یا دوسرے امریکی مخالفین امریکی پاور گرڈ پر سائبرحملے کر سکتے ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھابلکہ ماضی میں بھی امریکی پاور گرڈ پر جعلی دھمکیوں کا انکشاف ہوتا رہا ہے۔ سن 2009 میں برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے یہ دعویٰ کیا کہ چین اور روس سے آنے والے سائبرجاسوسوں نے امریکی بجلی کے گرڈ کو ہیک کرلیا ہے اور اسے بجلی کی فراہمی میں خلل ڈالنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح 2017 میں واشنگٹن پوسٹ نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ روسی حکومت کے لیے کام کرنے والے ہیکرز نے ایک ایسا سائبرہتھیارایجاد کیا ہے جس میں اتنی قوت ہے کہ وہ امریکی برقی نظام میں خلل پیدا کر سکتی ہے اور دشمن مالویئر نامی وائرس امریکی الیکٹرک ٹرانسمیشن اور تقسیم نظام کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔امریکہ چین اور روس کو دنیا کے امن اور خوشحالی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بذات خود دنیا کے تمام ممالک کے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور خاص طور ان ممالک کے لیے جو امریکہ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کے طابع فرمان رہے اور یہ مقصد وہ جائز اور ناجائز طریقے سے حاصل کرنے میں لگا رہے گا اور جب تک امریکہ کی دیگر ممالک کو دھمکیاں دینے کی عادت ختم نہیں ہوتی دنیا میں سرد اور گرم جنگوں کے بادل منڈھلاتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Back to top button