تازہ ترینخبریںدلچسپ و حیرت انگیز

80 فیصد خواتین نے شوہروں کے تشدد کو درست قرار دیدیا

سروے کے مطابق 18 میں سے 14 ریاستوں کی 50 فیصد سے زائد خواتین مردوں کو مخصوص حالات میں اپنی بیویوں کو مارنے کو درست قرار دیتی ہیں جب کہ بہت ہی کم خواتین نے اس عمل کو غیر معقول قرار دیا۔

80 فیصد خواتین نے شوہروں کے اپنی بیویوں پر ہاتھ اُٹھانے کے حق میں ووٹ دیا جب کہ بھارت کی ان بڑی ریاستوں کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی 50 فیصد سے زائد خواتین شوہروں کے تشدد کے حق میں ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بالترتیب 84، 84 اور 77 فیصد خواتین نے شوہروں کے بیویوں پر تشدد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوہروں کو بیویوں کی پٹائی کرنے کا حق ہے۔

حالیہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NHFS) میں ملک بھر کی ریاستوں میں خواتین سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ ’’ آپ کے خیال میں شوہر کا اپنی بیوی پر تشدد کرنا درست ہے؟ جواب ہاں یا نہ میں دینا تھا۔

سروے میں سوال کے ساتھ ممکنہ حالات جیسے شوہر کو بیوی کی وفا پر شک ہو، سسرال والوں کی بے عزتی کرتی ہو، شوہر کے ساتھ بحث کرتی ہو، جنسی تعلق کرنے سے انکار کرتی ہو، بتائے بغیر باہر نکل جاتی ہو، گھر یا بچوں کو نظر انداز کرتی ہو اور اچھا کھانا نہیں بناتی ہو رکھے گئے تھے۔

سروے کے مطابق 18 میں سے 14 ریاستوں کی 50 فیصد سے زائد خواتین مردوں کو مخصوص حالات میں اپنی بیویوں کو مارنے کو درست قرار دیتی ہیں جب کہ بہت ہی کم خواتین نے اس عمل کو غیر معقول قرار دیا۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق تلنگانہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں نتائج بہت دلچسپ ہیں جہاں تقریباً 80 فیصد خواتین نے مردوں کے بیویوں پر تشدد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ منی پور میں 66 فیصد، کیرالہ میں 52، جموں و کشمیر میں 49، مہاراشٹر میں 44 اور مغربی بنگال میں 42 فیصد خواتین نے مردوں کے تشدد کو درست کہا۔

نیشنل فیملی ہیلتھ کے افسران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وجہ شوہروں کو بیویوں پر تشدد کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ یہ خلاف قانون بھی ہے اور ہمارے سماج کی روایات کے برعکس بھی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گھروں میں خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں اور سالانہ کئی سو خواتین شوہروں اور سسرالیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button