29 C
Lahore
اتوار, اگست 1, 2021

Buy now

سوشل میڈیا انسانیت کیلئے کیسا ثابت ہو سکتا ہے؟ عالمی ماہرین نے بتا دیا!

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے اپنے مشترکہ تحقیقی مقالے میں خبردار کیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر انسانوں کے اجتماعی طرزِ عمل اور سوچ میں تبدیلی کو سمجھا نہ گیا تو یہ ٹیکنالوجی پوری انسانیت اور انسانی تہذیب کو تباہ کرکے رکھ دے گی۔

معتبر آن لائن تحقیقی مجلّے ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ (PNAS) کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے 17 مصنفین مختلف سائنسی موضوعات کے ماہر ہیں جن کا تعلق حیاتیات، نفسیات، اعصابیات اور ماحولیات سمیت کئی شعبوں سے ہے۔

ماہرین نے اپنے تمام نکات کو مجموعی طور پر ’’بحرانی علم‘‘ (کرائسس ڈسپلن) کا عنوان دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت انسانوں کے باہمی رابطے نہ صرف بہت بڑھ چکے ہیں بلکہ ان کی پیچیدگی بھی ماضی میں انسانی سماج کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوچکی ہے۔

’’ہمیں خدشہ ہے کہ اگر وسیع تر انسانی پیمانے پر ٹیکنالوجی کے اثرات نہ سمجھے گئے تو ہم آنے والے برسوں میں کسی غیر ارادی اور غیر متوقع تباہی کا شکار بھی ہوسکتے ہیں،‘‘ ماہرین نے لکھا۔

بحرانی علم (crisis discipline) کے تحت کسی ایک شعبے میں درپیش مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کےلیے مختلف شعبہ جات سے وابستہ ماہرین مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں، کیونکہ وہ مسئلہ بیک وقت کئی شعبوں کو متاثر کررہا ہوتا ہے۔

یہ اصطلاح (بحرانی علم) سن 2000ء میں حیاتیاتی تحفظ کے ماہرین نے پیچیدہ ماحولیاتی مسائل کا ہنگامی اور مؤثر حل ڈھونڈنے کی غرض سے درکار وسیع البنیاد تحقیقی تعاون کےلیے وضع کی تھی۔

اس مقالے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آج ہم انسانوں کے اجتماعی طرزِ عمل پر ٹیکنالوجی کے اثرات سمجھنے سے قاصر ہیں جس کا نتیجہ نہ صرف جمہوری بلکہ سائنسی ترقی میں رکاوٹوں کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔

انہوں نے کووِڈ 19 کی عالمی وبا میں غلط اور بے بنیاد خبروں کے وسیع تر پھیلاؤ، اور اس پھیلاؤ سے برآمد ہونے والے سنگین نتائج کو اس امر کی تازہ ترین مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

علاوہ ازیں، انتخابات میں سوشل میڈیا سے پھیلائی جانے والی افواہوں کے اثرات بھی اسی بڑے اور پیچیدہ مسئلے کا ایک حصہ ہیں۔

مستقبل میں بھی ہم جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے ایسے ہی غیر ارادی، غیر متوقع اور منفی نتائج کا بڑے پیمانے پر سامنا کرسکتے ہیں جن میں انتخابی دھاندلی کے ساتھ ساتھ بیماری، پرتشدد انتہاء پسندی، خشک سالی، نسل پرستی اور جنگی حالات تک شامل ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اپنے مقالے میں ان سائنسدانوں نے سوشل میڈیا کو مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیا بلکہ مختلف مواقع پر سوشل میڈیا کے کردار کو سراہا بھی ہے۔

مثلاً یہ کہ معاشرے کے وہ طبقات جو اقلیت میں ہیں یا سماج میں ان کی بات سنی نہیں جاتی، آج وہ بھی سوشل میڈیا کی بدولت اپنے مسائل سے ایک وسیع حلقے کو آگاہ کرسکتے ہیں، جیسے کہ روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی یا امریکی کانگریس کی عمارت پر سفید فام نسل پرستوں کا حملہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں

پہلا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے انگلینڈ کو 31 رنز سے شکست دے دی

پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں فاتحانہ آغاز کردیا، پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں انگلینڈ کو 31 رنز سے ہرا...

بلاول بھٹو کے باغ سے سامان چوری

نامعلوم چور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے باغات سے سامان چوری کرکے فرار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 13 برس...

پنجاب میں انٹر کے امتحانات کا آغاز، لاہور میں 462 امتحانی مراکز قائم

پنجاب میں انٹر کے امتحانات کا آغاز ہوگیا۔ لاہور میں امیدواروں کیلئے 462 امتحانی مراکز قائم کئے گئے جبکہ سینٹرز کے باہر دفعہ 144...

Leave a Reply

[td_block_social_counter style=”style8 td-social-boxed td-social-font-icons” tdc_css=”eyJhbGwiOnsibWFyZ2luLWJvdHRvbSI6IjM4IiwiZGlzcGxheSI6IiJ9LCJwb3J0cmFpdCI6eyJtYXJnaW4tYm90dG9tIjoiMzAiLCJkaXNwbGF5IjoiIn0sInBvcnRyYWl0X21heF93aWR0aCI6MTAxOCwicG9ydHJhaXRfbWluX3dpZHRoIjo3Njh9″ custom_title=”Stay Connected” block_template_id=”td_block_template_8″ f_header_font_family=”712″ f_header_font_transform=”uppercase” f_header_font_weight=”500″ f_header_font_size=”17″ border_color=”#dd3333″]
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں