Uncategorized

مجوزہ تحریک عدم اعتماد ….. علی حسن

علی حسن
پاکستانی سیاست کو سیاست دانوں نے ایسا سرکس بنا دیا ہے کہ معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ملک، بار بار عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر کام تھم سا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی ریلی لے کر نکلی ہے تاکہ اسلام آباد جا کر عمران حکومت کا خاتمہ کر سکے۔ تحریک انصاف سندھ میں ضلع ضلع گھوم رہی ہے تاکہ لوگوں کو باور کرا سکے کہ پیپلز پارٹی نے عوام کو کچھ نہیں دیا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی ریلی کا عنوان حقوق سندھ رکھا ہے۔ ان سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے ملک میں نئے عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمارا جمہوری ہتھیار عدم اعتماد ہے، جس کے لیے مہم چلا رہے ہیں، کوشش ہے کہ خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں۔ وہ عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، تحریک عدم اعتماد کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آپشن استعمال کرنے سے ہمیںکوئی نہیں روک سکتا۔ پیپلز پارٹی 38 نکاتی مطالبات لے کر نکلی ہے۔ اِن میں ایسے معاملات بھی شامل ہیں جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی درجہ رکھتے ہیں جن میں مزدوروں کو قابلِ گزارہ اجرت کی ادائیگی کا حق، گھریلو ملازمین اور موسمی مزدور کو سوشل سکیورٹی کا تحفظ فراہم کرنے ، زرعی شعبے کے مزدوروں اور چھوٹے کسانوں پر لیبر قوانین، کم سے کم اجرت کے قانون، سوشل سکیورٹی اور زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات کے قوانین کا اطلاق کیا جانا، شامل ہیں۔ اس وقت سندھ واحد صوبہ ہے جس میں خواتین کھیت مزدوروں کو رجسٹر کرنے اور ان کو قانونی تحفظ اور حقوق فراہم کرنے کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے، ان قوانین کو تمام ملک میں لاگو کیا جائے۔ زرعی اجناس کی قیمتوں اور ان پر سبسڈی کے لیے ایک نیا فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے قومی پیمانے پر غذائی تحفظ کے حق کی پاسداری، مستحکم نرخوں ، شہری اور دیہی عوام کی یکساں آمدنی کو یقینی بنایا جائے۔غریب طبقات کے لیے رہائش کی فراہمی کا حق اور ان کو جبری طور پر گھر سے بے دخل کرنے کے خلاف قانون سازی کرنا، کچی آبادیوں اور انتہائی پسماندہ علاقوں کو ریگولرائز کرنے اور ان کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے قانونی فریم ورک کی تیاری کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ مطالبات اسی طرح کے ہیں کہ جس زمانے میں طلباءتحریکوں کے دوران طلباءمطالبات کی جو فہرست تیار کرتے تھے، تو اس میں بہت کچھ شامل کر دیتے تھے تاکہ افسران الجھے ہی رہیں، مطالبات تسلیم کرنے والے کچھ تو مان ہی لیں گے۔ خود بلاول کے صوبے میں عوام کا ایک طبقہ مساوی حقوق کے لیے گڑ گڑا رہا ہے، ایڑیاں رگڑ رہا ہے لیکن ملازمت، پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں وغیرہ کے بارے میں حکومت کان دھرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔
تحریک عدم اعتماد کا توجو نتیجہ نکلنا ہے وہ نکلے گا لیکن مسلم لیگ (ق) بیک وقت حکومتی اتحادیوں اور اپوزیشن کی توجہ کامرکز بنی ہوئی ہے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد میں (ق) لیگ کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ذرائع کہتے تھے کہ آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) مشاورت سے فیصلے پر اتفاق کرچکی تھے ۔ آصف زرداری ان کی رہائش گاہ پہنچے، شہباز شریف ان سے گفتگو کرنے پہنچے۔ اس کے علاوہ چودھری برادران کی (ن) لیگ کی قیادت اورمولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ایم کیوایم ، بلوچستان عوامی پارٹی کی قیاد ت چودھری برادران سے ملاقات کرچکی ہے، جبکہ جی ڈی اے کی قیادت بھی چودھری برادران سے رابطے میں ہے۔ اخترمینگل کی شہباز شریف سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔ خود عمران خان لاہور گئے تاکہ ان کے ساتھ ملاقات کر سکیں۔ حکومت مخالفین کی ایک ہی کوشش ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو اور عمران خان تحریک کی ناکامی کی خواہش رکھتے ہیںاور کوشش بھی کر رہے ہیں۔
یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ (ق) لیگ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ق لیگ کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی حمایت کا وعدہ کیا ہے اور نہ ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگی ہے۔ پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار چودھری پرویزالٰہی کو دے دیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ، آصف زرداری ، شہبازشریف ہمارے گھر آئے ،ملاقاتوں میں بعض تجاویز زیر غور آئیں جن کا اس موقع پر ذکر قبل از وقت ہو گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ (ق) لیگ نے اپوزیشن سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مانگ لی ہے۔
(ن) لیگ اس مسئلہ پر تقسیم ہے ۔ پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ملک پر مسلط عذاب سے جان چھڑانے کے لیے وزارت اعلیٰ (ق) لیگ کو دینا ممکن ہے ۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا مسلم لیگ (ن) کی ترجیح نہیں ہے، پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے پر بات چیت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ ہوگیا ہے، اپوزیشن کی تمام جماعتیں عمران خان کو کسی نہ کسی طریقے سے گھر بھیجنے پر متفق ہیں۔ زبیر کی بات بہت حد تک سمجھ میں آنے والی ہے کہ نواز شریف، پرویز الٰہی کو ہضم نہیں کر پائیں گے۔ خواہ ان کی مدت سال بھر ہی کیوں نہ ہو۔ پرویز الٰہی اپنی صلاحیتوں کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے منوا چکے ہیں، وہ کسی طرح بھی شہباز شریف سے کم صلاحیتوں کے حامل نہیں ۔ زبیر کہتے ہیں کہ کوشش ہے کہ ایسا فیصلہ کیا جائے جس پر حکومتی اتحادیوں سمیت سب مطمئن ہوں، 172کا جادوئی نمبر بہت اہم ہے لیکن ہم اس سے آگے جانا چاہتے ہیں۔اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ حز ب اختلاف کے لیے 172ووٹ ممکن بنانا آسان نہیں ہوگا۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانے کے لیے 172 اراکین کے ووٹ درکار ہوں گے۔( ن) لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان ہوں ےا کوئی اور، اس موقعہ سے سب ہی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ایک اخبار میںتو یہ اطلاع بھی موجود تھی کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے کو بھی وزیر اعظم بنوانے کی خواہش رکھتے ہیں خواہ مدت کچھ بھی ہو۔ سیاسی عناصر سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت نے مارچ کا مہینہ مکمل کرلیا تو وہ آئندہ انتخابات تک برقرار رہے گی یعنی اپنی آئین مدت پوری کرے گی۔(ن) لیگ چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کا بندوبست ابھی کردیا جائے تاکہ 2023ءمیں اس کے لیے چیلنج نہ بن سکے ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ عمران خان خرید و فروخت کرنے والوں کے جمعہ بازار پر ایسا سیاسی ڈرون حملہ کر یں گے کہ ان کی سیاست نیست و نابود ہو جائے گی ۔ چھانگا مانگا کی تربیت والے سمجھ لیں کہ سیاست میں خرید و فروخت کا بازار لگا تو جھاڑو پھر جائے گا۔ ووٹ کو عزت دینے والے خرید وفروخت کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ حکومتی حلقے توقع رکھتے ہیں کہ جہانگیر ترین کی حیثیت اہمیت کی حامل ہے ، بعض عناصر عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان دوبارہ صلح ہونے کا امکان بہت کم سمجھ رہے ہیں لیکن جہانگیر ترین علاج کے لیے لندن چلے گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ تینوں سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نون لیگ اور پی ٹی آئی) کے سیاست دان اپنے لیے تو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس موقع یا مر حلے پر اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداریت حکمرانی کرنے کے معاملے میں موزوں رہے گی؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button