Uncategorized

ایک ملک تھا جو اُجڑ گیا .. احمد نوید

احمد نوید
یہ ایک عجیب و غریب ملک تھا ۔ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ تھے۔92فیصد شرح خواندگی،بے شمار سیاحتی مقام ، نایاب اور نادر جنگلی حیات، چائے کے باغات ، قدیم اور تاریخی مقامات گویا اس خطے میں دریافت کرنے کو بہت کچھ تھا۔ یہاں کے لوگ خوشحال تھے یا کم از کم بھوکے نہیں مر رہے تھے یا کم از کم آسمان کو چھونے والی غربت ہر گز نہ تھی۔
اس ملک کو بحر ہند کا موتی کہا گیا ۔ یہاں کے بہت سے قیمتی پتھر اس ملک کی اہم برآمدات میں شامل ہیں ۔ یہاں دنیا کی بہترین معیار کی صاف ترین چائے اُگتی ہے ۔ یہ ملک چائے کی برآمدات میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے ۔ دنیا کو دار چینی دینے کا اعزاز بھی اسی ملک کو حاصل ہے۔اس ملک کا قومی پرچم دنیا کے قدیم ترین جھنڈوں میں سے ہے ۔ یہ دنیا کا پہلا ملک تھا جہاں ایک خاتون وزیراعظم کے منصب پر براجمان ہوئی تھیں ۔اس سرزمین پر دنیا کا قدیم درخت ہے ، جسے 288قبل مسیح میں لگایا گیا تھا ، اس طرح اس درخت کی عمر دو ہزار تین سو سال سے زیادہ بنتی ہے ۔ اس درخت کے نیچے مہاتما بدھ نے مراقبہ کرتے ہوئے روشن خیالی حاصل کی تھی۔
یہ ملک سری لنکا ہے ، جسے کسی زمانے میں گوریلا وار سے بچانے کے لیے پاکستان آرمی نے مد د فراہم کی ، مگر آج یہ ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو کر دیوالیہ ہو چکا ہے ۔ سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کی وجوہات کو تلاش کرنا بہت آسان ہے اور تھوڑی سی بھی معاشی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد اِن وجوہات کا احاطہ کر سکتے ہیں ۔ سری لنکا کو معاشی بحران میں دھکیلنے کی پہلی وجہ برسوں کے جمع شدہ قرضوں کا حجم تھا۔ سر ی لنکا کو 2022میں قریبا ً 4ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کرنا تھی جبکہ سری لنکا کے پاس فروری 2022میں صرف 2.31ارب ڈالر قومی خزانے میں بچے تھے ۔ لہٰذا غیر ملکی زرمبادلہ کے یہ ذخائر قرض کی ادائیگی کے لیے ناکافی تھے۔
غیر ملکی کرنسی میں انتہائی کمی کے بعد سری لنکا کے معاشی بحران کی دوسری اہم وجہ مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ تھا۔ قومی خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے سری لنکن حکومت کے پٹرول سمیت دوسری ضروری درآمدا ت کی ادائیگی کرنے سے بھی قاصر ہو چکی تھی ۔ جس سے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں مزید خوفناک اضافہ ہوا۔ اس معاشی بحران نے سری لنکن کرنسی کی قدر میں بھی کمی کا تسلسل جاری رکھا۔ یہ تمام وجوہات عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے کافی تھے، لیکن ان تمام معاملات کو محض گزشتہ چند سالوں سے منسلک کرنا بے وقوفی ہو گی۔ اس معاشی بحران اور دیوالیہ ہونے کے سفر کا آغاز کئی دھائیاں پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اس بحران کی جڑیں ماضی کی کئی حکومتوں کی معاشی بد انتظامیوں میں پوشیدہ ہیں۔ جنہوں نے کرنٹ اکائونٹ خسارہ پیدا کیا اور اُسے ختم کرنے میں ناکام رہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سری لنکا کے قومی اخراجات قومی آمدنی سے کہیں زیادہ تھے۔
کوویڈ 19کے دو سے تین سالوں کے درمیان سری لنکا کی سیاحت شدید متاثر ہوئی جس سے ملک کی منافع بخش صنعت کا بہت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سری لنکا خاموشی اور نہایت آہستہ آہستہ پٹڑی سے اُتر رہا تھا مگر سری لنکا کی حکومت خواب خرگوش کے مزے اُڑا رہی تھی۔کہتے ہیں،مشکل وقت میں گھبراہٹ مزید مشکل پیدا کرتی ہے ۔ ملک کو معاشی بحران کی طرف جاتے دیکھ کر سری لنکا کی حکومت بھی غلط فیصلے کرتی رہی ۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں 70فیصد تک کمی کی وجہ سے سری لنکا کے وزیراعظم نے قومی خزانے میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے ٹیکس لگائے جس سے زرعی شعبے میں نقصان ہوا، چاول کی فصل میں کمی ہوئی ۔ شدید خسارے اور معاشی بحران کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے سری لنکا کی اپوزیشن حکومت پر زور ڈالتی رہی کہ آئی ایم ایف سے فوراً رابطہ کیا جائے ، مگر معزول وزیراعظم راجا پاکسے کی انتظامیہ اور سینٹرل بینک آف سری لنکا نے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود اپوزیشن رہنمائوں کے مشورے کی مزاحمت کی ، مگر افسوس بہت دیر ہو چکی تھی۔
آج سری لنکا میں فسادات پھوٹ چکے ہیں ۔ عوام ناراضگی اور غصے میں ہے ۔ احتجاج رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہے بلکہ زور بھی پکڑ رہے ہیں ۔ بجلی کی شدید بندش ہے ۔ پٹرول کی قلت ہے ۔ کرفیو نافذ ہے ۔ معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے ۔ حکمران جماعت پارلیمنٹ میں اکثر یت کھو چکی ہے ۔ سری لنکا آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے ، وہ سوچ کر ڈر لگتا ہے ۔ سری لنکا کے یہ حالات پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہونے چاہیے کیونکہ پاکستان کی معیشت بھی آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہے ۔ ہمارے ملک کے قومی اخراجات بھی قومی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں ۔ ہماری کرنسی بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں گر رہی ہے ۔ ہمیں اس معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے ۔ موجودہ حکومت عمران خان کو اقتدار سے نکال تو چکے ہیں مگر عمران خان کی حکومت کی نااہلی اور خراب طرز حکمرانی معیشت کو جس قدر تباہ کر دیاہے۔ موجودہ حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے لیے ان معاملات کوٹھیک کرنا ناممکن ہے ۔ اس وقت پٹرول کو کم از کم 75روپے مہنگا کرنا اور سبسڈی ختم کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اگر موجودہ حکومت ایسا نہیں کرتی تو آئی ایم ایف ناراض ہوگا اور مزید قرضہ نہیں دے گا اور اگر حکومت پٹرول مہنگا کر دیتی ہے تو مہنگائی کی مزید بہت بڑی لہر آنے سے عوام ناراض ہو جائیں گے۔یہ وہ حالات اور معاملات ہیں جن کو نہایت دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے ۔ سب کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے۔ آج پاکستان کی معیشت کے بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے کم از کم معیشت کی حد تک اسٹیبلشمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیچ پر آنا ہوگا وگرنہ سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کی بازگشت تو دنیا سن ہی چکی ہے ۔
ایک ملک تھا جو اُجڑ گیا!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button