28 C
Lahore
اتوار, اگست 1, 2021

Buy now

ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور ڈاکٹر یونس جاوید سے ملک کی ادبی و سیاسی صورتحال پر مکالمہ…… راجا نیئر

راجا نیئر
قارئین! آج ہم وطن عزیز کو درپیش سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی سطح پر در آنے والے چند اہم معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس مکالمے میں ہمارے ساتھ ملک کے نامور محقق، شاعراور ادیب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا اور یونس جاوید (ڈاکٹر) شریک ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ ادب کی اتنی بڑی اور اہم شخصیات جو تحقیق، تنقید، شاعری، افسانہ اور ڈرامے کے حوالے سے بلند پایہ مقام کی حامل ہیں۔ وہ ان مسائل اور معاملات کو عام آدمی سے ہٹ کر کس طرح دیکھتے ہیں۔ ان کی رائے یقینا قومی سطح پر ہماری رہنمائی کرے گی۔کیونکہ ان کی زندگیاں تحقیق اور مسائل حیات کے حل کی جستجو میں گزری ہیں۔ ان مسائل پر کی گئی دونوں شخصیات کی گفتگو میں آپ کو وطن سے محبت اور قوم سے دردمندی کئی انداز سے جھلکتی ہوئی دکھائی دے گی۔
سوال: ملک میں بڑھتے ہوئے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل پر ادیب، شاعر خاموش کیوں ہیں۔ آپ کے خیال میں سبھی کس انتظار میں ہیں؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: اس سوال میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ (ا) ادیبوں اور شاعروں کو سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل پر احتجاج جلسے کر کے اور جلوس نکال کر کرنا چاہیے۔
(ب) شعر و ادب کے ذریعے مسائل پر اظہار سیاسی تقریروں سے مشابہہ نہیں ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں ادیبوں اور شاعروں سے یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی لیڈروں کی طرح کوئی سیاسی جماعت بنائیں اور اس کے پلیٹ فارم پر ہنگامی نظمیں پڑھیں۔ ہر لکھنے والے سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ظفر علی خاں یا شورش کاشمیری کی طرح ہر روز ہنگامی واقعاتی نظمیں لکھے۔ اگرچہ متعدد ادیب اپنی نظم و نثر میں معمول کے مطابق خیالات پیش کر رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے لکھنے والے بھی مل جائیں گے جو ملک کے اجتماعی مسائل کا کسی نہ کسی انداز سے اظہار کر رہے ہیں۔ اگر ناول یا افسانے میں غربت، بے روزگاری، معاشری ناہمواری، تعصبات، تنگ نظری وغیرہ کی تصویر کشی کردار اور واقعات کے روپ میں ظاہر کی جاتی ہے تو یہ ادیبوں کے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل پر اظہار رائے کا انداز ہے۔ اسے خاموشی سے تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ شاعری میں بھی علامتوں کے ذریعے اس اونچ نیچ کو آشکار کیا جا رہا ہے۔ شعر و ادب کو کسی تحریک کے ذریعے احتجاج میں تبدیل کرنا صحیح رویہ نہیں ہے۔
یونس جاوید (ڈاکٹر): میرا خیال نہیں کہ وہ خاموش ہیں۔ اسلام میں برائی کو روکنے کے تین طریقے ہیں۔ تلوارسے، زبان سے یا دل میں بُرا جاننا۔ ہمارے ادیب، شاعر، صحافی، دانشور اس وقت لکھ بھی رہے ہیں اور اپنے اپنے انداز سے خوب اظہار بھی کر رہے ہیں تاہم میں محسوس کرتا ہوں کہ یہاں دُکھ بھی ہے اور سُکھ بھی …… بہت سے کانٹے اُبھرے ہوئے ہیں قوم کو صحیح اور غلط کی پہچان کرنی چاہیے۔ ہمارا دشمن 80لاکھ کشمیریوں کو قید کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ ہم اور آپ تو سبھی سمجھ رہے ہیں لیکن وہاں اسلام آباد میں بیٹھے لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ ساری دنیا کی نظریں ہماری طرف لگی ہوئی ہیں۔ اس مجمعے میں زیادہ مجبور لوگ ہیں۔ وہ اپنے لیڈر کے کہنے پر مارچ میں شریک ہو کر یہاں آ گئے مگر نہیں جانتے کہ یہاں کس کے اشارے پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس نے دہشت گردی کے دروازے پر بیٹھ کر لاشیں اُٹھائیں کراچی اور لاہور کے علاوہ بھی ملک کے کئی علاقوں میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کو کنٹرول کیا۔ اس وجہ سے ساری دنیا کو پاکستان کا احترام کرنا چاہیے تھا۔ مگر اس قسم کی صورتحال پیدا کر کے مذہبی و سیاسی لوگ دشمن کو خوش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورہ ”والتین……“ میں قسم کھائی کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں تخلیق کیا اگر یہ انسان بھی پیسے کی خاطر دشمن کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے تو…… محب ِ وطن عناصر کو اس صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔ آج پوری قوم سوشل میڈیا پر مارچ اور دھرنے کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہی ہے…… ادیب شاعر اور دانشور خاموش نہیں بیٹھ سکتے!
سوال: کیا آپ موجودہ حالات میں ”ترقی پسند تحریک“ جیسی کسی بڑی تحریک کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: ترقی پسند تحریک بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں شروع ہوئی تھی۔ اس کا بڑا محرک انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک میں شدت پیدا کرنا تھا۔ خیال یہ تھا کہ تمام مسائل کی جڑ غلامی ہے اور غیر ملکی حکمران رخصت ہوں گے تو بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اس بنیاد پر اس تحریک میں شدت پیدا ہوئی۔ روس میں جو اشتمالی انقلاب آیا اس نے ادیبوں کو یہ راستہ سمجھایا کہ انقلاب ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ انگریز کو رخصت کیا جائے گا تو ہمارے معاشرے میں بھی زرعی اور صنعتی انقلاب رونما ہو جائے گا۔ معاشرے کو تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مسلسل اور طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس کے لیے ادیب اور شاعر کچھ مدد فراہم کر سکتے ہیں مگر راستہ ہموار کرنے کے لیے متعدد دیگر قوتوں کے ذریعے جدوجہد بہت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں تمام تر غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے باوجود ہمارے ہاں ابھی افلاس اتنی نچلی سطح پر نہیں پہنچا جہاں ”کرو یا مرو“ کی کیفیت پیدا ہو جائے۔ مثلاً چین میں ماؤ کا انقلاب اس وقت شروع ہوا جب جدوجہد کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچا تھا۔ علاوہ ازیں ہر کوئی انقلاب کا لیڈر بھی نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے خاص اہلیت کے لیڈر درکار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے اس لیے موجودہ حالات میں کم از کم مجھے تو ترقی پسند تحریک جیسی کسی تحریک کے آثار نظر نہیں آتے۔
یونس جاوید(ڈاکٹر):”ترقی پسند تحریک“تقسیم کے وقت ان حالات کی وجہ سے متحرک ہوئی۔ لاکھوں لوگوں کا خون بہا تو وہ تمام عمل آزادی کے نام پر بہنے والے انسانی لہو کی پیداوار تھا۔ آج ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ اگر ہمارا آئیڈیل انسانیت ہے تو ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔ترقی پسندی محض تحریکوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ ہمارے نبیؐ سے بڑا ترقی پسند کوئی نہیں۔ فوج میں پریڈ بھی نماز سے لی گئی۔ آج پیدا ہونے والے بچے کو 2035ء کے حالات کے لیے تیار کرنے کے لیے نیا اور جدید سلیبس درکار ہے۔
سوال: نئی نسل کو سینئرز سے ایک ہی گلہ ہے کہ آپ لوگوں نے اُن کی ادبی تربیت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: بہت پہلے لوگوں کے پاس وافر وقت ہوتا ہے۔ سینئر ادیبوں کی محفلوں میں لوگ آ کر بیٹھتے تھے۔ ان کی بات چیت سنتے تھے۔ بحث مباحثے ہوتے تھے جن میں ادبی معاملات اور مسائل پر اپنا اپنا نقطہئ نظر پیش کیا جاتا تھا۔ یہاں جونیئر لوگ حسبِ استطاعت کچھ نہ کچھ سیکھ لیتے تھے۔ لیکن یہ تربیت کسی سِکّہ بند طریق سے نہ پہلے ہوتی تھی نہ اب ہوتی ہے۔ پُرانے زمانے میں شعراء کے ہاں ”استاد شاگرد“ کا جو ادارہ تھا اس پر یہ بحث ہو سکتی ہے کہ اس نے شاعری کو فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان دیا ہے؟ ماضی میں بھی سیکھنا سکھانا انفرادی رویہ رہا ہے اور آج بھی یہی صورت ہے۔ شعر و ادب میں کون کسی کو سکھا سکتا ہے؟ مچھلی کو تیرنا اور ہوا کو چلنا کون سکھاتا ہے؟ ہمیشہ بڑے لکھنے والے بے استادے ہی ہوتے ہیں۔ غالب اور اقبال کے استاد کون تھے؟ صرف فطری صلاحیت اور سیکھنے کے لیے ذاتی کاوش اور توجہ درکار ہے۔
یونس جاوید(ڈاکٹر): نئی نسل جلد بازی سے مشہور ہونا چاہتی ہے…… ایک افسانے اور نظم کی خبر اور تصویر لگوا کر خود کو بڑا شاعر، ادیب ماننے لگتے ہیں۔ ہماری تربیت اشفاق احمد سے ہوئی۔ میں 10 سال تک حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں میں صرف سنتا رہا۔ بعد میں لکھنے اور بولنے لگا۔ ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے کم بولتے تھے اور زاہد ڈار اپنے علم کے بوجھ کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔ مزید یہی کہوں گا کہ
با ادب با مُراد……
سوال: حلقہ اربابِ ذوق جیسے تاریخی اور نمائندہ ادارے کا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا کیا کوئی معمولی واقعہ ہے۔ سینئرز اس صورتحال پر کب تک خاموش رہیں گے؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: حلقہ اربابِ ذوق تشکیل کے آغاز ہی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ڈاکٹر یونس جاوید نے حلقہ ارباب ذوق پر جو ضخیم کتاب لکھی ہے، اس کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کی تصدیق ہو جائے گی۔ میں نے 1958ء سے ’حلقے‘ میں سے مختلف حلقے بنتے دیکھے ہیں۔ کبھی ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے تھے اور کبھی پھر الگ ہو کر اجلاس منعقد کرنے لگ جاتے تھے۔ اس لیے اس صورتِ حال پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مبارک احمد اُن لوگوں میں تھے جو حسبِ ضرورت اپنا ایک مختلف حلقہ اربابِ ذوق (مرکزی) بنا لیتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور میں آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ دو بلکہ تین ”حلقے“ آسانی سے چل سکتے ہیں۔ ”حلقے“ کی تقسیم سے ادب کا ارتقا تو نہیں رک جاتا اس لیے اس تقسیم پر سینئرز کی خاموشی پریشان کن نہیں ہے۔ ویسے ”حلقہ“ ایک ہی ہو تو بہتر ہے۔
یونس جاوید(ڈاکٹر): حلقے کی تقسیم اس وقت ہوئی جب اختر حسین جعفری صاحب کا بیٹا منظر ایک ووٹ سے ہارنے پر بلاجواز ناراض ہوا۔ میں الیکشن کمیشن بنا۔ اس نے میرے فیصلے کو عدالت میں کیس کی صورت چیلنج کر دیا۔ بلاوجہ بدمزگی ہوئی ادبی معاملات کو اس طرح اُچھالنا اچھا عمل نہ تھا عامر فراز میری بات سمجھ گیا۔ اگر فعال ادیب، شاعر اس غلط اقدام کو غلط نہیں سمجھتے تو سینئر اس معاملے میں مداخلت کیوں کریں۔ آج کل حلقے میں تنقید کا معیار بہت گر چکا ہے۔ میں ڈاکٹر انور سجاد کے حوالے سے مضمون پڑھنے گیا تو حسین مجروح اور ڈاکٹر امجد طفیل نے بہت بچگانہ اور سطحی انداز سے تنقید کی۔ آج کی ادبی صورت حال میں مداخلت کر کے اپنی عزت داؤ پر کیوں لگائیں۔
سوال: ٹی وی ڈرامے کی حالیہ صورتحال اور زوال کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں آخر اسے اس مقام تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: میں ٹی وی ڈرامے سے بہت کم واقف ہوں۔ اس کا جواب وہی لوگ بہتر دے سکتے ہیں جو اس کے باقاعدہ ناظرین ہیں یا خود ٹی وی ڈرامے لکھتے ہیں یا جو ان کی ساخت اور پرداخت کرتے ہیں۔
یونس جاوید(ڈاکٹر): ٹی وی ڈرامہ کمرشل ازم کے ہتھے چڑھ کر اس بربادی تک پہنچا…… جلدی بازی اور افراتفری نے ٹی وی ڈرامے کو نقصان پہنچایا۔یہاں ڈائریکٹر کا عمل دخل تقریباً ختم ہو کر رہ گیا۔ کاسٹ ڈائریکٹر اور رائیٹر کی باہمی مشاورت سے طے ہونے کی بجائے سیٹھ صاحب کی پسندو ناپسند سے ہونے لگی۔ ہم بتایا کرتے تھے کہ میں نے فلاں کریکٹر فلاں آرٹسٹ کے لیے لکھا ہے اسے کاسٹ کریں لیکن آجکل نہ ریہرسل، نہ مشورہ، نہ پروڈیوسر ڈرامے کے فن سے آشنا اور نہ ہی لکھنے والا ان باتوں پر توجہ دیتا ہے۔ میرے ڈرامہ ”کانچ کا پُل“ کی گیارہ دن ریہرسل ہوتی رہی میں ریکارڈنگ میں خود شامل رہتا تاکہ لفظ کی ادائیگی اور حرمت قائم رہے۔ محمد نثار حسین طویل دورانیے کے ڈرامے کی کاسٹ کو لیٹ آنے پر 50 روپے جرمانہ کرتے تھے جو کہ اداکار سائیڈ پر رکھے ڈبے میں از خود ڈال دیا کرتا تھا۔ یاور حیات کے کہنے پر میں آئیڈیا لکھ کر لے گیا…… ہم ڈسکس کر رہے تھے کہ ان کا چہیتا شاگرد اور پروڈیوسر نصرت ٹھاکر اندر داخل ہوا لیکن یاور صاحب نے انہیں یہ کہہ کر باہر بھیج دیا کہ میں یونس جاوید صاحب کے ساتھ ڈرامہ ڈسکس کر رہا ہوں۔ آپ چلے جائیں پلیز۔
سوال: غزل کی زبان و بیان اور ہیت کو بدلنے والوں نے اردو ادب کو کوئی فائدہ پہنچایا…… کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: شعر و ادب میں تجربات ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی روکنا چاہیے۔ اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد کچھ تجربات قبول کر لیے جاتے ہیں اور کچھ گردِ گمنامی میں چھپ جاتے ہیں، یہی کیفیت غزل کے سلسلے میں تجربات کی ہے۔ اس سلسلے کا ایک بڑا تجربہ غزل میں لسانی تشکیلات کا ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان تشکیلات کا سلسلہ ولی دکنی سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ موجودہ دور میں اس کے سب سے بڑے نمائندہ ظفر اقبال ہیں۔ اگر کسی نے دو سو سال پہلے لکھی جانے والی انشا کی غزلیات پڑھی ہوں تو اسے معلوم ہو گا کہ اس نے الفاظ و اسالیب میں کتنے حیران کن تجربات کیے ہیں۔ یہی کیفیت نظیر اکبر آبادی، حالی، اکبر الہ آبادی، اقبال اور شاد عارفی کی غزلیات میں ملے گی۔ غزل کے ذخیرہئ الفاظ میں مختلف النوع الفاظ شامل کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔ ان میں سے وقت کچھ تجربات کو قبول کر لے گا۔ باقی رہ گئی آزاد غزل کی مختلف صورتیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ تجربات فی الحال تو پھلتے پھولتے نظر نہیں آتے۔
یونس جاوید(ڈاکٹر): ہمارے بڑے شاعر ظفر اقبال نے اس تناظر میں بہت اچھا کام کیا اور ان کا پہلا مجموعہ ”آب رواں“ ہر سطح پر پسند کیا گیا لیکن پھر افتخار جالب نے کئی مباحث کر کے ظفر اقبال سے گل آفتاب لکھوایا۔ ہم آب رواں کو پسند کرتے تھے لیکن ظفر اقبال گل آفتاب کو پسند کرتے رہے۔ گل آفتاب میں شامل ”پٹخ پاٹی پرانی پنکچوئشن“جیسے اشعار کو ظفر اقبال اعلیٰ معیاری اور پسندیدہ شاعری قرار دیتے ہیں۔حالانکہ …… نکلی برونِ شہر تو بارش نے آ لیا اور ……آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے ……جیسے مصرعے اور اشعار قارئین ادب کو آج بھی پسند ہیں۔اس بات پر کیا کہا جائے کہ تجریدیت نے غزل کی چاشنی اور کہانی کی کشش کو یکسر غائب کر دیا تھا۔
سوال: علامتی اور مزاحمتی ادبی تجربے سے اردو ادب کے قارئین بہت مایوس ہوئے…… آپ کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: علامتی اور مزاحمتی ادب دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ دونوں اقسام کا ادبی خاصی مقدار میں لکھا جا رہا ہے اور شائع ہو رہا ہے۔ مزاحمتی ادب کی طرف رجحان رکھنے والے زیادہ تر شاعری کی طرف میلان رکھتے ہیں جب کہ علامتی ادب کی طرف زیادہ تر افسانہ نگار متوجہ ہیں۔ (اگرچہ ان رجحانات میں قطعیت سے نظم ونثر کا امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔) دونوں طرح کا ادب اچھا بھی ہے اور معمولی درجے کا بھی۔ دونوں کو بیک قلم مسترد کرنا ممکن نہیں۔ علامتی اور مزاحمتی دونوں طرح کے لکھنے والوں نے اچھا ادب بھی تخلیق کیا ہے جو زندہ رہے گا۔
یونس جاوید(ڈاکٹر): علامت کے حوالے سے افسانے میں بہت خرابی آئی۔ لوگوں کی سمجھ میں نہ آنے والے مضامین اور اسلوب استعمال کر کے انہیں ادب سے دور کر دیا گیا۔اسلام آباد والوں نے تو اس میں تجربات کی انتہا کر دی۔ شاعری میں بھی یہ سب کچھ آیا تو ادبی چاشنی جاتی رہی۔اب وہ سب کچھ لوٹ رہا ہے البتہ مزاحمت تو ڈرائریکٹ ہوتی ہے اس پر ادیب اور شاعر اس وقت کھل کر لکھتے رہے جب ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا اور بہت بڑے لیڈر بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ خوشبو کی شہادت جیسی اہم شاعری سامنے آئی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مزاحمت جغرافیہ اور تاریخ میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ آج کی ادبی تخلیقات کو دیکھیں تو افسانے اور کہانی میں وہی تخلیقی چاشنی چہکتی دکھائی دینے لگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پہلا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان نے انگلینڈ کو 31 رنز سے شکست دے دی

پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں فاتحانہ آغاز کردیا، پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں انگلینڈ کو 31 رنز سے ہرا...

بلاول بھٹو کے باغ سے سامان چوری

نامعلوم چور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے باغات سے سامان چوری کرکے فرار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 13 برس...

پنجاب میں انٹر کے امتحانات کا آغاز، لاہور میں 462 امتحانی مراکز قائم

پنجاب میں انٹر کے امتحانات کا آغاز ہوگیا۔ لاہور میں امیدواروں کیلئے 462 امتحانی مراکز قائم کئے گئے جبکہ سینٹرز کے باہر دفعہ 144...

Leave a Reply

[td_block_social_counter style=”style8 td-social-boxed td-social-font-icons” tdc_css=”eyJhbGwiOnsibWFyZ2luLWJvdHRvbSI6IjM4IiwiZGlzcGxheSI6IiJ9LCJwb3J0cmFpdCI6eyJtYXJnaW4tYm90dG9tIjoiMzAiLCJkaXNwbGF5IjoiIn0sInBvcnRyYWl0X21heF93aWR0aCI6MTAxOCwicG9ydHJhaXRfbWluX3dpZHRoIjo3Njh9″ custom_title=”Stay Connected” block_template_id=”td_block_template_8″ f_header_font_family=”712″ f_header_font_transform=”uppercase” f_header_font_weight=”500″ f_header_font_size=”17″ border_color=”#dd3333″]
- Advertisement -

تازہ ترین خبریں