تازہ ترینجرم کہانی

’اٹک ڈسٹرکٹ جیل کا عملہ ملاقاتی خواتین کے ریپ اور ہراسانی میں ملوث ہے‘

صوبائی انٹیلی جنس سینٹر (پی آئی سی) نے اٹک ڈسٹرکٹ جیل کے کچھ اہلکاروں پر قیدیوں سے ملنے کے لیے آنے والی خواتین کا ریپ کرنے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

صوبائی انٹیلی جنس سینٹر کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اٹک جیل میں طاقتور مافیا کی موجودگی کے باعث منشیات کا استعمال بھی بہت بڑھ چکا ہے۔

پی آئی سی فیلڈ اسٹاف نے ڈسٹرکٹ جیل کے معاملات سے متعلق خفیہ انکوائری کی اور 30 ستمبر کو انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ کو رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے ایک اہلکار کی جانب سے کچھ اہلکاروں اور عہدیداروں پر مجرموں سے ملنے کے لیے آنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کے ریپ میں ملوث ہونے کے الزامات انتہائی خوفناک تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال اور الزامات کافی پریشان کن ہیں جو کسی اسکینڈل کے سامنے آنے کا باعث بن سکتے ہیں جس سے پنجاب کی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ظاہر ہوگی۔

پی آئی سی فیلڈ اسٹاف نے ایڈیشنل سیکریٹری لیول کے دیانتدار افسر کی سربراہی میں قائم ہائی پاور کمیٹی کے ذریعے ڈسٹرکٹ جیل کے معاملات کی انکوائری کرانے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جیل کا وہ عملہ جو جیل مینول کی خلاف ورزی، تشدد، بدعنوانی، بھتہ خوری اور جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے، اسے سزا ملنی چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ جیل میں آنے والی خواتین کے وقار اور ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جانا چاہیے اور قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والی خواتین سے متعلق معاملات کو دیکھنے کے لیے صرف خواتین اہلکاروں پر مشتمل عملہ ہی تعینات ہونا چاہیے۔

تمام قیدیوں کو جنسی استحصال اور ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل میں اس کے حکام کی ملی بھگت کے باعث بدعنوانیاں اور غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی قیدی سے ملاقات کرنے کے لیے آنے والی کوئی بھی لڑکی قیدیوں کو منشیات فراہم کردیتی ہے، چرس کا جو پیکٹ جیل سے باہر 500 روپے میں ملتا ہے وہی پیکٹ جیل کے اندر 3 ہزار سے 3ہزار 500 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات فروشوں کے طاقتور مافیاز جیل انتظامیہ کی ملی بھگت سے جیل کے اندر ممنوعہ اشیا کی فروخت سے بھاری منافع کما رہے ہیں اور اس سہولت کاری اور تعاون پر وہ جیل انتظامیہ کو اس منافع میں سے اچھی خاصی رقم بھی ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیدی مبینہ طور پر عملے کو رشوت دینے کے بعد جیل کے باہر سے اپنی پسند کا منگوالیتے ہیں، اس کے علاوہ امیر قیدی جیل حکام کو رشوت دے کر جیل سے باہر سرکاری ہسپتالوں میں ایڈمٹ بھی ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ سے نشاندہی ہوتی ہے کہ قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ملاقات جیل حکام کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ملاقاتی کو مبینہ طور پر جیل میں ملاقات کے لیے 500 سے 2000 روپے رشوت دینی پڑتی ہے۔

20 اکتوبر کو ریٹائر ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ سے معاملے پر رد عمل جاننے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button